Main Icon

باب : قرآنی سجدے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1025

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ (السَّجْدَةَ)وَنَحْنُ عِنْدَهٗ فَيَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَهٗ فَنَزْدَحِمُ حَتّٰى مَا يَجِدُ أَحَدُنَا لِجَبْهَتِهٖ مَوْضِعًا يَسْجُدُ عَلَيْهِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عمر قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأ (السجدة)ونحن عنده فيسجد ونسجد معه فنزدحم حتى ما يجد أحدنا لجبهته موضعا يسجد عليه(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم سجدے کی آیت پڑھتے تو ہم آپ کے پاس ہوتے تو آپ اور ہم آپ کے ساتھ سجدہ کرتے بھیڑ لگ جاتی حتی کہ ہم میں کوئی اپنی پیشانی کے لیے جگہ نہ پاتا کہ جس پر سجدہ کرے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں سجدہ پڑھنے سے مراد سجدے کی آیت پڑھنا ہے یا سجدے کے لفظ کے ساتھ آگے پیچھے کے لفظ بھی پڑھنا ورنہ فقط سجدے کا لفظ پڑھ لینے سے سجدہ واجب نہیں ہوتا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سجدہ آیتِ سجدہ پڑھنے سے بھی واجب ہوتا ہے اور سننے سے بھی اور یہ کہ سجدہ بڑا اہم ہے کہ صحابہ کرام بھیڑ لگا کر یہ سجدہ کیا کرتے تھے اس سے مذہب حنفی کو قوت پہنچتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1025