Main Icon

باب : قرآنی سجدے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1028

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ مُجَاهِدٌ: قُلْتُ لِاِبْنِ عَبَّاسٍ : أَأَسْجُدُ فِي (ص)فَقَرَأَ: (مِنۡ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیۡمٰنَ)حَتّٰى أَتٰى (فَبِہُدٰىہُمُ اقْتَدِہۡ)فَقَالَ: نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ أَمَرَ أَنْ يَقْتَدِيَ بِهِمْ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

وفي رواية: قال مجاهد: قلت لابن عباس : أأسجد في (ص)فقرأ: (من ذریتہ داود و سلیمن)حتى أتى (فبہدىہم اقتدہ)فقال: نبيكم صلى الله عليه وسلم ممن أمر أن يقتدي بهم. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

اور ایک روایت میں ہے مجاہد کہتے ہیں ۱؎کہ میں نے حضرت ابن عباس سے کہا کیا سورۂصمیں سجدہ کروں تو آپ نے یہ تلاوت کیا "مِنۡ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیۡمٰنَ؎حتی کہ"فَبِہُدٰىہُمُ اقْتَدِہۡ"پر پہنچے پھر فرمایا کہ تمہارے نبی صلی الله علیہ وسلم ان میں سے ہیں جنہیں ان کی پیروی کا حکم دیا گیا ۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ تابعین میں سے ہیں،مکہ معظمہ کے مشہور عالم فقیہ اور قاری ہیں،حضرت عبد الله ابن عباس سے تیس بار قرآن کریم معہ تفسیر پڑھا، ۱۰۴ھ میں وصال ہوا۔
۲
؎اس آیت کا مضمون یہ ہے کہ نوح علیہ السلام کی اولاد میں بہت پیغمبر ہوئے جن میں حضرت داؤدو سلیمان علیہما السلام بھی ہیں۔آپ ان تمام حضرات کے کمالات،اخلاق اختیا ر فرمائیں کیونکہ یہ رب تعالٰی کے دیئے ہوئے کمالات تھے۔یہ مطلب نہیں کہ ان کے سارے اعمال بھی کریں کیونکہ اسلام ان دینوں کا ناسخ ہے،نیز حضور انور صلی الله علیہ وسلم ان کے متبع نہیں آپ تو ان کے پیشوا او ر مقتدا ہیں ہاں ان کے کمالات کے جامع ہیں جیسے رب نے فرمایا:"قُلْ بَلْ مِلَّۃَ اِبْرٰهمَ حَنِیۡفًا"فرماؤ ہم ملت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہیں،یہاں پیروی سے مراد موافقت ہے نہ کہ اطاعت و فرماں برداری۱۲
۳
؎یعنی حضور انور صلی الله علیہ وسلم گزشتہ انبیاء کرام کے کمالات کے جامع ہیں اور داؤد علیہ السلام نے قبول توبہ پر سجدۂ شکر کیا تھا یہ سجدہ ان کا کمال تھا،سورۂ ص میں یہ قصہ مذکور ہے تو حضور صلی الله علیہ وسلم نے یہاں سجدہ کیا ہم کو بھی سجدہ کرنا چاہیئے۔امام احمد نے ابوبکر ابن عبد الله مزنی سے روایت کی کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ سورۂ ص لکھ رہا ہوں جب سجدہ کی آیت پر پہنچا تو دوات و قلم وغیرہ سجدہ میں گر گئے میں نے یہ قصہ حضورانور صلی الله علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کیا،میں نے اس کے بعد دیکھا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم بھی یہاں ہمیشہ سجدہ کرتے تھے۔ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ ص کا سجدہ دوسرے سجدوں کی طرح واجب ہے ۱۲

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1028