Main Icon

باب : قرآنی سجدے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1031

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ فَرَأَوْا أَنَّهٗ قَرَأَ تَنْزِيلَ السَّجْدَةَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن ابن عمر: أن النبي صلى الله عليه وسلم سجد في صلاة الظهر ثم قام فركع فرأوا أنه قرأ تنزيل السجدة. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ظہر میں سجدہ کیا پھر کھڑے ہوئے پھر رکوع کیا لوگ سمجھے کہ آپ نےتنزیل السجدہپڑھی ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎صحابہ رضی الله عنھم نے یہ اس لیئے سمجھا کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم خاموشی کی نمازوں میں سورۃ کی ایک آدھ آیت آواز سے پڑھ دیتے تھے تاکہ پتہ لگے کہ فلاں سورۃ پڑھ رہے ہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا سنت یہ ہے کہ نمازی آیت سجدہ پر سجدہ کرے پھر باقی سورۃ پڑھ کر رکوع کرے اور اگر پوری سورۃ پڑھ کر سجدہ کرے جب بھی جائز ہے اور اگر رکوع میں ہی سجدہ تلاوت کرنے کی نیت کرے تب بھی درست ہے مگر پہلی صورت افضل ہے،حضرت عمرو ابن مسعود نماز میں سجدہ کی آیت پڑھ کر رکوع میں سجدہ کی نیت کو درست مانتے تھے اور کسی صحابی نے ان کی مخالفت نہ کی۔(مرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1031