Main Icon

باب : قرآنی سجدے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1030

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ فُضِّلَتْ سُورَةُ الْحَجِّ بِأَنَّ فِيهَا سَجْدَتَيْنِ قَالَ: نَعَمْ وَمَنْ لَمْ يَسْجُدْهُمَا فَلَا يَقْرَأْهُمَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهٗ بِالْقَوِيِّ. وَفِي الْمَصَابِيحِ: «فَلَا يَقْرَأها»كَمَا فِي شَرْحِ السُّنَّةِ

وعن عقبة بن عامر قال: قلت يا رسول الله فضلت سورة الحج بأن فيها سجدتين قال: نعم ومن لم يسجدهما فلا يقرأهما رواه أبو داود والترمذي وقال: هذا حديث ليس إسناده بالقوي. وفي المصابيح: «فلا يقرأها»كما في شرح السنة

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم سورۂ حج کو اس طرح بزرگی دی گئی کہ اس میں دو سجدے ہیں فرمایاہاں جویہ دو سجدے نہ کرے ۱؎وہ ان دونوں کو نہ پڑھے۔(ابوداؤد،ترمذی)ترمذی نے فرمایا اس حدیث کی اسناد قوی نہیں ۲؎اور مصابیح میں ہے کہ سورۂ حجنہ پڑھے جیسا کہ شرح سنہ میں ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث حضرت امام شافعی رحمۃ الله علیہ کی دلیل ہے کہ سورۂ حج میں دو سجدے ہیں امام اعظم رحمۃ الله علیہ کے نزدیک حج میں صرف ایک سجدہ ہے یعنی پہلا دوسری آیت میں سجدہ نماز مراد ہے نہ کہ سجدۂ تلاوت کیونکہ وہاں ارشاد ہوا"ارْکَعُوۡا وَاسْجُدُوۡا"یعنی سجدہ کا رکوع کے ساتھ ذکر ہوا اور جہاں رکوع سجدہ مل کر آویں وہاں سجدہ نماز مراد ہوتا ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:وَاسْجُدِیۡ وَارْکَعِیۡ،نیز طحاوی نے حضرت ابن عباس رضی الله عنھما سے روایت کی کہ سورۂ حج میں پہلا سجدہ عزیمت ہے اور دوسرا سجدہ تعلیم،نیز یہ حدیث علاوہ ضعیف ہونے کے امام شافعی رحمۃ الله علیہ کے بھی خلاف ہے کیونکہ وہ قرآنی سجدے واجب نہیں مانتے سنت مانتے ہیں اور اس حدیث سے وجوب ثابت ہوتا ہے کہ فرمایا یہ جو سجدے نہ کرے وہ یہ سورۃ ہی نہ پڑھےیہ بہرحال اس حدیث سے استدلال قوی نہیں۔
۲
؎کیونکہ اس کی اسناد میں ابن لہیعہ شوافع کے نزدیک ضعیف ہے اور ابن شرع ابن ہامان عام محدثین کے نزدیک مجروح لہذا اس حدیث سے استدلال درست نہیں۱۲

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1030