Main Icon

باب : قرآنی سجدے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1033

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهٗ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ عَامَ الْفَتْحِ سَجْدَةً فَسَجَدَ النَّاسُ كُلُّهُمْ مِنْهُمُ الرَّاكِبُ وَالسَّاجِدُ عَلَی الأَرْضِ حَتّٰى إِنَّ الرَّاكِبَ لَيَسْجُدُ عَلیٰ يَدِهٖ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن ابن عمر أنه قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قرأ عام الفتح سجدة فسجد الناس كلهم منهم الراكب والساجد علی الأرض حتى إن الراكب ليسجد علی يده. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال آیت سجدہ پڑھی سب لوگوں نے سجدہ کیا ۱؎ان میں سوار اور زمین پرسجدہ کرنے والے حتی کہ سوار اپنے ہاتھ پر سجدہ کرتا تھا ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ واقعہ سورۂوَالنَّجْمپڑھنے کے علاوہ ہے کیونکہ آج مکہ معظمہ میں کوئی مشرک نہ تھا اور وہاں مشرکین مکہ نے بھی سجدہ کیا تھا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سجدۂ تلاوت سوار اپنے ہاتھ پر کرسکتا ہے اترنا ضروری نہیں یہی امام اعظم رحمۃ الله علیہ کا قول ہے۔
۲
؎یہ حدیث ان لوگوں کی دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ قرآن میں گیارہ سجدے ہیں کیونکہ چودہ سجدوں میں سے جب مفصل کے تین سجدے نکل گئے تو گیارہ باقی بچے،مگر یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ اس کی اسناد میں ابوقدامہ بصری ہیں جو ضعیف ہیں(نووی)نیز حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث قوی ہے جس میں ہے کہ ہم نے حضور انور صلے الله علیہ وسلم کے ساتھاِنْشَقَّتْاوراِقْرَأمیں سجدہ کیا۔حضرت ابوہریرہ بعد ہجرت یعنی۷ ھ ∞ میں ایمان لائے،ابھی حضرت ابن عمر رضی الله عنھما کی حدیث گزری کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال سورۂوَالنَّجْمپڑھی اور سب نے سجدہ کیا،نیز یہ حدیث نافی ہے اور وہ حدیث مثبت جب ثبوت ونفی میں تعارض ہو تو ثبوت کو ترجیح ہوتی ہے۔بہرحال یہ حدیث قابل عمل نہیں مفصل میں تین سجدے ہیں "وَالنَّجْمِ،اِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ،اِقْرَأ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1033