Main Icon

باب : آگ اور آگ والوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5668

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ، وَهُوَ مُنْتَعِلٌ بِنَعْلَيْنِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "أهون أهل النار عذابا أبو طالب، وهو منتعل بنعلين يغلي منهما دماغه". رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دوزخیوں میں سب سے ہلکے عذاب والے ابو طالب ہوں گے وہ دو جوتے پہنے ہوں گے جن سے انکا دماغ کھولتا ہوگا ۱∞؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ ابو طالب اگرچہ شرعًا مسلمان نہ بنے مگر انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی بہت ہی خدمت کی حتی کہ حضور انور نے اپنی یتیمی کا زمانہ عبدالمطلب کے بعد انہیں کے پاس گزار ا،رب نے فرمایا:"اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیۡمًا فَاٰوٰی"کے نتیجہ میں ان کا عذاب ہلکا ہوگا۔معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت وہ عمل ہے جو کافروں کے بھی کام آجاتا ہے مگر بغیر شرعی ایمان لائے جنت کا داخلہ میسر نہ ہوگا لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰی مَا عَمِلُوۡا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ہَبَآءً مَّنۡثُوۡرًا"ہم نے کفار کے نیک اعمال کو بکھرے ہوئے ریزوں کی طرح برباد کردیا،کہ وہاں بخشش کی نفی ہے اور یہاں عذاب ہلکا ہونے کا ذکر ہے۔ابولہب کو دوشنبہ کے دن عذاب ہلکا کردیا جاتا ہے اور اسے کلمہ کی انگلی چوسنے پر پانی ملتا ہے،دیکھو بخاری شریف کیونکہ اس نے حضور کی ولادت شریفہ کی خوشی منائی تھی،جب خدمت گار اور خوشی منانے والے کفار پر یہ کرم ہے تو جو مسلمان آج حضور کے دین کی خدمت کریں ان پر کرم کیوں نہ ہوگا۔شعر
دوستاں راکجا کنی محروم توکہ با دشمناں نظر داری
یہ حدیث احمد نے بھی روایت کی۔
(مرقات)خیال رہے کہ ابو طالب کے ایمان کے متعلق علماء اہلِ سنت میں اختلاف ہے۔علامہ احمد دھلان رحمۃ اللہ علیہ نے ایک کتاب لکھی ہےاسنی المطالب فی ایمان ابی طالبوہاں ان کا ایمان ثابت فرمایا ہے۔صاحب تفسیر روح البیان نے فرمایا کہ وہ شرعًا مؤمن نہ تھے کہ انہوں نے صراحۃً کلمہ نہ پڑھا مگر عنداللہ مؤمن تھے،ان بزرگوں کے نزدیک ابو طالب کو یہ عذاب عارضی ہوگا جیسے بعض گنہگار مسلمانوں کو اور وہ اللہ تعالٰی کے اس لپ کے ذریعہ دوزخ سے نکالے جائیں گے جو شفاعتیں ختم ہوجانے پر رب تعالٰی دوزخیوں سے بھرا ہوا اپنا ایک لپ جنت میں ڈالے گا۔عام علماء فرماتے ہیں کہ ان کا ایمان ثابت نہیں۔خیال رہے کہ کوئی شخص ان پر زبان طعن دراز نہ کرے،وہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے بڑے ہی خدمت گزار ہیں،حضور کو اپنے ساتھ لے کر سونے والے،حضور کی خاطر کفار مکہ کے ہاتھوں بہت ہی دکھ درد سہنے والے،ممکن ہے کہ ان پر طعن کرنے سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو دکھ ہو ہم اپنی فکر کریں کہ ہمارا انجام کیا ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5668