Main Icon

باب : آگ اور آگ والوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5682

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاقٍ يُهْرَاقُ فِي الدُّنْيَا لأَنْتَنَ أَهْلُ الدُّنْيَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لو أن دلوا من غساق يهراق في الدنيا لأنتن أهل الدنيا". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اگر غساق ۱∞؎کا ایک ڈول دنیا میں گرادیا جائے تو دنیا والے سخت بدبو میں مبتلا ہوجاویں۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎غساقبھی دوزخیوں کو پلایا جانے والا پانی ہے یہ تمام دوزخیوں کی قے،خون پیپ اور کچ لہو کا مجموعہ ہے جو نالیوں کے ذریعہ نیچے گرتا ہوگا اسے نیچے کے طبقے والے دوزخی پئیں گے،وہاں نیچے طبقے والے دوزخیوں کا عذاب بہت سخت ہوگا۔خیال رہے کہ غساق وغیرہ صرف کافر دوزخیوں کو پلایا جائے گا اللہ تعالٰی مسلمان گنہگاروں کو جو کچھ عرصہ کے لیے دوزخ میں رکھے جائیں گے ان پانیوں سے محفوظ رکھے گا کیونکہ مسلمان کے منہ میں اللہ رسول کا نام حضور کا کلمہ پڑھا جاتا ہے۔رب نے انسانیت کا اتنا احترام فرمایا ہے کہ ماں کے پیٹ میں بچہ کی غذا حیض کا خون ہوتا ہے مگر وہ منہ کی راہ پیٹ میں نہیں جاتا ہے بلکہ بچہ کے ناف میں سوراخ دار ناڑو ہوتا ہے اسی ذریعہ پہنچتا ہے کیونکہ منہ اللہ رسول کے نام کی جگہ ہے مگر جب کفار نے خود ہی اپنی انسانیت کھودی تو انہیں یہ سزا دی گئی، رب فرماتاہے:"اِلَّا حَمِیۡمًا وَّ غَسَّاقًا جَزَآءً وِّفَاقًاہم کو چاہیے کہ اپنا منہ جھوٹ غیبت وغیرہ سے محفوظ رکھیں کہ یہ منہ یار کے نام کی جگہ ہے۔گندے گھر میں سلطان کو نہیں بٹھایا جاتا،رب تعالٰی ہمارے منہ دل و دماغ کو گناہوں سے بچائے۔۲؎یہاں ڈول سے مراد تھوڑا سا غساق ہے،سمجھانے کے لیے ڈول ارشاد فرمایا ہے۔دنیا سے مراد زمین ہے یعنی غساق کی بدبو کا یہ حال ہے کہ اس کا ایک ڈول ساری روئے زمین کو بدبو سے سزا دے،اس کی بدمزگی اس کی شکل کا کیا پوچھنا اس کا ایک قطرہ روئے زمین کی چیزیں کڑوی کردے۔نتنمقابل ہےنوحکا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5682