Main Icon

باب : آگ اور آگ والوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5666

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ، لَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ زِمَامٍ، مَعَ كُلِّ زِمَامٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَجُرُّونَهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يؤتى بجهنم يومئذ، لها سبعون ألف زمام، مع كل زمام سبعون ألف ملك يجرونها". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اس دن دوزخ لائی جائے گی جس کی ۱∞؎ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچیں گے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس فرمان عالی سے معلوم ہوتا ہے کہ دوزخ پیدا ہوچکی ہے،نیز وہ اس وقت اس جگہ نہیں جہاں قیامت کے بعد ہوگی یعنی محشر اور جنت کے درمیان راستہ میں،ابھی یہ کسی اور جگہ ہے اس دن ملائکہ اسے کھینچ کر وہاں پہنچائیں گے جہاں اس نے رہنا ہے،اس کی تائید قرآن کریم کی اس آیت سے ہے "وَجِایۡٓءَ یَوْمَئِذٍۭ بِجَہَنَّمَحضور صلی اللہ علیہ و سلم نے معراج میں دوزخ کی سیر فرمائی اس جگہ جہاں وہ تھی۔آج اتنا سورج کس قدر تیزی سے حرکت کررہا ہے یوں ہی دوزخ اپنی جگہ سے ہٹا کر لائی جائے گی۔۲؎یہ فرمان عالی بالکل ظاہر پر ہے کسی طرح کی تاویل کی ضرورت نہیں وہ لگامیں کتنی بڑی ہوں گی کتنی مضبوط ہوں گی یہ رب تعالٰی ہی جانتا ہے اور ہر لگام پر کتنےکتنے فرشتے مقرر ہوں گے یہ بھی اللہ رسول ہی جانتے ہیں جنت اسی جگہ رہے گی جہاں پہلے سےتھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5666