Main Icon

باب : آگ اور آگ والوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5673

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "أُوقِدَ عَلَى النَّارِ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى احْمَرَّتْ، ثُمَّ أُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى ابْيَضَّتْ، ثُمَّ أُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى اسْوَدَّتْ، فَهِيَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَةٌ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

عن أبي هريرة عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "أوقد على النار ألف سنة حتى احمرت، ثم أوقد عليها ألف سنة حتى ابيضت، ثم أوقد عليها ألف سنة حتى اسودت، فهي سوداء مظلمة". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا دوزخ کی آگ پر ایک ہزار سال تک دھونکا گیا حتی کہ سرخ ہوگئی پھر اس پر ایک ہزار سال تک دھونکا گیا حتی کہ سفید ہوگئی ۱∞؎پھر اس پر ایک ہزار سال تک دھونکاگیا حتی کہ سیاہ ہوگئی چنانچہ وہ سیاہ تاریک ہے ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎دھونکنے والے فرشتے تھے ان کی دھونکنیاں جن سے دھونکا رب جانتا ہے کتنی بڑی اور کس چیز کی تھیں۔آگ میں سرخی دھوئیں کی ملاوٹ سے ہوتی ہے دھوئیں سے خالص آگ سفید ہوتی ہے ویلڈنگ کی آگ کا رنگ دوسری آگوں سے مختلف ہوتا ہے۔۲؎دنیا کی آگ میں گرمی بھی ہے روشنی بھی مگر دوزخ کی آگ میں گرمی تو غضب کی ہے روشنی کوئی نہیں۔اس فرمان عالی سے معلوم ہوتا ہے کہ دوزخ اور اس کی آگ پیدا ہوچکی ہے،رب فرماتا ہے:"اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیۡنَ"اہلسنت کا یہی مذہب ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5673