Main Icon

باب : آگ اور آگ والوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5669

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يُؤْتَى بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُصْبَغُ فِي النَّارِ صَبْغَةً، ثُمَّ يُقَالُ: يَا ابْنَ آدَمَ! هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيمٌ قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ! وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِي الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيُصْبَغُ صَبْغَةً فِي الْجَنَّةِ، فَيُقَالُ لَهُ: يَا ابْنَ آدَمَ! هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ وَهَلْ مَرَّ بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا مَرَّ بِي بُؤْسٌ قَطُّ، وَلَا رَأَيْتُ شِدَّةً قطُّ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أنس قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يؤتى بأنعم أهل الدنيا من أهل النار يوم القيامة، فيصبغ في النار صبغة، ثم يقال: يا ابن آدم! هل رأيت خيرا قط؟ هل مر بك نعيم قط؟ فيقول: لا والله يا رب! ويؤتى بأشد الناس بؤسا في الدنيا من أهل الجنة، فيصبغ صبغة في الجنة، فيقال له: يا ابن آدم! هل رأيت بؤسا قط؟ وهل مر بك شدة قط؟ فيقول: لا والله يا رب ما مر بي بؤس قط، ولا رأيت شدة قط". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قیامت کے دن عیش والے دنیا دار دوزخی کو لایا جاوے گا اسے آگ میں ایک بار غوطہ دیا جاوے گا ۱∞؎پھر کہا جاوے گا اے انسان تو نے کبھی کوئی بھلائی دیکھی تھی کیا تجھ پر کبھی کوئی نعمت آئی تھی وہ کہے گا یارب واللہ کبھی نہیں ۲؎اور دنیا میں سخت مصیبت زدہ جنتی کو لایا جاوے گا اسے جنت میں ایک غوطہ دیا جاوے گا ۳؎پھر اس سے کہا جاوے گا اے انسان تو نے کبھی کوئی تکلیف دیکھی تھی تجھ پر کبھی کوئی سختی آئی تھی وہ کہے گا یارب واللہ کبھی نہیں ۴؎نہ مجھ پر کبھی تکلیف آئی نہ میں نے کبھی کوئی سختی دیکھی ۵؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ واقعہ بعد قیامت ہوگا نہ کہ قبر میں کیونکہ دوزخ میں داخلہ اس وقت ہے قبر میں تو صرف دوزخ یا جنت کی کھڑکی کھل جاتی ہے۔۲؎پتہ لگا کہ دنیا کے عمر بھر کے عیش و آرام وہاں کے منٹ بھر کے ایک غوطہ پر بھول جائیں گے وہ تو بڑی سخت جگہ ہے دنیا میں کوئی خاص مصیبت پڑے تو سارے عیش فراموش ہوجاتے ہیں۔۳؎یا تو حوض کوثر میں یا وہاں کی ہوا اور دوسری نعمتوں میں۔غوطہ دیئے جانے سے مراد ہے وہاں کی ہوا کا جھونکا دینا وہاں داخل فرما کر اس کی تجلی دکھانا۔۴؎معلوم ہوا کہ وہاں کے عیش کی ایک جھلک وہاں کی ہوا کا ایک جھونکا عمر بھر کے دنیاوی غموں تکلیفوں کو بھلا دے گا،انسان کو چاہیے کہ اس طرف دل لگائے۔خیال رہے کہ یہ عرض معروض جھوٹ نہ ہوگی بلکہ واقعی وہ شخص ان مصیبتوں کو بھول ہی جاوے گا اس بنا پر یہ کہے گا۔۵؎اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میں نے دنیا میں جو مصیبتیں دیکھیں وہ درحقیقت مصیبتیں ہی نہ تھیں کیونکہ ان کا انجام یہ نعمتیں تھیں یا یہ مطلب ہے کہ وہ ان مصیبتوں کو بھول ہی گیا ان نعمتوں کی خوشی میں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5669