Main Icon

باب : آگ اور آگ والوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5678

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ فِي قَوْلِهِ: {كَالْمُهْلِ} أَيْ: كَعَكَرِ الزَّيْتِ، فَإِذَا قُرِّبَ إِلَى وَجْهِهِ سَقَطَتْ فَرْوَةُ وَجْهِهِ فِيهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعنه عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال في قوله: {كالمهل} أي: كعكر الزيت، فإذا قرب إلى وجهه سقطت فروة وجهه فيه. رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا رب کے قولکالمھلکے متعلق ۱∞؎یعنی تیل کے تلچھٹ کی طرح تو جب اس کے چہرے کے قریب کیا جاوے گا تو اس کے چہرے کی کھال اس میں گرجاوے گی ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی قرآن مجید میں جو ہے"اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوۡمِ طَعَامُ الْاَثِیۡمِ کَالْمُہۡلِ یَغْلِیۡ فِی الْبُطُوۡنِ"تھوہر کا درخت ان مجرموں کی غذا ہےمھلکی طرح پیٹوں میں جوش مارے گا،حضور انور نےمھلکی تفسیر فرمائی۔۲؎یعنی اس غذا کی رنگت ایسی ہوگی جیسے تیل کی تلچھٹ یعنی گاؤ گرم اس قدر جو یہاں مذکور ہے کہ منہ یا پیٹ میں پہنچنے کے بعد کیا بنے گا پینے سے پہلے منہ کے قریب پہنچنے پر ہی چہرہ بھون ڈالے گا،غور کرو کہ پیٹ میں پہنچ کر کیسی آفت ڈھائے گا ان سب تکالیف کے باوجود جان نہ نکلے گی کہ وہاں موت نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5678