Main Icon

باب : آگ اور آگ والوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5693

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا يَدْخُلُ النَّارَ إِلَّا شَقِيٌّ". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَنِ الشَّقِيُّ؟ قَالَ: "مَنْ لَمْ يَعْمَلْ لِلَّهِ بِطَاعَةٍ وَلَمْ يَتْرُكْ لَهُ بِمَعْصِيَةٍ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لا يدخل النار إلا شقي". قيل: يا رسول الله! ومن الشقي؟ قال: "من لم يعمل لله بطاعة ولم يترك له بمعصية". رواه ابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ آگ میں نہ جاوے گا مگر بدنصیب ۱∞؎عرض کیا گیا یارسول اللہ بدنصیب کون ہے ؟ فرمایا جو اللہ کی فرمانبرداری کا کام نہ کرے اور اس کی نافرمانی نہ چھوڑے ۲؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دوزخ میں سزا پانے کے لیے صرف بدبخت جن و انس ہی ہوں گے،اگر دائمی داخلہ مراد ہے توشقیسے مراد پورا بدبخت یعنی کافر ہے اور اگر مطلقًا داخلہ مراد ہے دائمی ہو یا عارضی توشقیسے مراد مطلقًابدکار ہے خواہ کافر ہو یا فاسق مسلمان۔۲؎یہاں بھی وہ ہی دو احتمال ہیں: اگر کافر مراد ہے تو اس معصیت میں بدعقیدگی بھی داخل ہے اور طاعت میں اچھے عقیدے شامل یعنی وہ کافر دوزخ میں ہمیشہ کے لیے جاوے گا جس نے اچھے عقیدے اچھے اعمال اختیار نہ کیے برے عقیدے اور برے اعمال پر رہا، رب فرماتاہے:"لَا یَصْلٰىہَاۤ اِلَّا الْاَشْقَی الَّذِیۡ کَذَّبَ وَ تَوَلّٰیاور اگر گنہگار مؤمن بھی اس میں داخل ہیں تو معصیت و اطاعت سے مراد عمل و اطاعت ہے۔خیال رہے کہ دنیا میں خوش نصیبی بدنصیبی مال سے سمجھی جاتی ہے مگر آخرت میں اعمال سے وہاں کی دولت اعمال ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5693