Main Icon

باب:فئ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4061

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَرَأَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ : إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ حتّٰى بَلَغَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ، فَقَالَ: هٰذِهٖ لِهَؤُلَاءِ. ثُمَّ قَرَأَ وَاعْلَمُوْا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ للّٰهِ خُمُسَهٗ وَلِلرَّسُوْلِ حتّٰى بَلَغَ وَابْنِ السَّبِيلِ ، ثُمَّ قَالَ: هٰذِهٖ لِهَؤُلَاءِ. ثُمَّ قَرَأَ مَا أَفَاءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى حتّٰى بَلَغَ لِلْفُقَرَاءِ ، ثم قَرأَ وَالَّذِينَ جَاءُوْا مِنْ بَعْدِهِمْ، ثُمَّ قَالَ: هٰذِهِ اسْتَوْعَبَتِ الْمُسْلِمِينَ عَامَّةً، فَلَئِنْ عِشْتُ فَلَيَأْتِيَنَّ الرَّاعِيَ وَهُوَ بِسَرْوِ حِمْيَرَ نَصِيبُهٗ مِنْهَا، لَمْ يَعْرَقْ فِيهَا جَبِينُهٗ. رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

وعنه قال: قرأ عمر بن الخطاب رضي الله عنه : إنما الصدقات للفقراء والمساكين حتى بلغ عليم حكيم ، فقال: هذه لهؤلاء. ثم قرأ واعلموا أنما غنمتم من شيء فأن لله خمسه وللرسول حتى بلغ وابن السبيل ، ثم قال: هذه لهؤلاء. ثم قرأ ما أفاء الله على رسوله من أهل القرى حتى بلغ للفقراء ، ثم قرأ والذين جاءوا من بعدهم، ثم قال: هذه استوعبت المسلمين عامة، فلئن عشت فليأتين الراعي وهو بسرو حمير نصيبه منها، لم يعرق فيها جبينه. رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ابن خطاب نے یہ آیت تلاوت کی کہ صدقے فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں حتی کہعلیم حکیمتک پہنچے پھر فرمایا کہ یہ ان لوگوں کے لیے ہیں ۱؎پھر تلاوت کی جان لو جو چیز تم غنیمت لو اس کا پانچواں حصہ اللہ رسول کا ہے حتی کہ پہنچےابن سبیلتک پھر فرمایا یہ ان لوگوں کے لیے ہے ۲؎پھر تلاوت کی جو بستی والے اللہ اور اپنے رسول پر فئ کریں حتی کہللفقراءتک پہنچے ۳؎پھر تلاوت کی وہ جو آئے ان کے بعد پھر فرمایا کہ اس آیت نے سارے مسلمانوں کو گھیرلیا ۴؎اگر میں زندہ رہا تو چرواہا آئے گا جوبسر اور حمیر کا ہوگا ۵؎اس کاحصہ بھی اس سے ہوگا کہ جس میں اس کی پیشانی پسینہ والی نہ ہوئی ۶؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی زکوۃ کے مصرف وہ آٹھ ہیں جو اس آیت کریمہ میں مذکور ہیں:فقراء،مساکین،عاملین،مؤلفۃ القلوب، گردنیں چھوڑانا، مقروض،مسافر فی سبیل اللہ یعنی مجاہدین۔
۲
؎یعنی اب مال غنیمت کا خمس ان چارمصرفوں پر صرف ہوگا ذی قربی،یتیم،مساکین،مسافر یہ خمس کے اہل ہیں۔
۳
؎یعنی فئ جو کہ کفار کا مال ان سے بغیر لڑے بھڑے مل جائے وہ اللہ رسول کا ہے،اسے ان پانچ مقامات پر خرچ کیا جائے جو اس آیت میں مذکور ہیں:رسول،ذی قربیٰ،یتیم،مسکین،مسافر،اس کی تفصیل کتب فقہ میں دیکھو۔
۴
؎یعنیتعالٰی نے فئ کی تقسیم کے بیان میں"وَالَّذِیۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعْدِهِمْ"فرماکر تا قیامت مسلمانوں کو شامل فرمالیا۔جس سے معلوم ہوا کہ فئ کو ایسے کاموں پرخرچ کیا جائے گا جس سے تمام مسلمان ان کی آئندہ نسلیں فائدہ اٹھاتی رہیں جیسے غازیوں، علماء،قاضیوں،پل کی تعمیروں پر بخلاف پچھلی دو آیتوں کے کہ زکوۃ کے مصارف اور غنیمت کے مصرف خاص لوگ قرار دیئے گئے۔
۵
؎بسر اور حمیر یمن کی دو بستیاں ہیں،بسریمن کا ایک گاؤں ہے اور حمیر وہاں کا مشہور شہر ہے،یہ بستیاں مدینہ منورہ سے کافی فاصلہ پر ہیں اس لیے بطور مثال ان کا نام لیا یعنی دوردراز ملکوں کے مسلمانوں کا بھی فئ میں حصہ ہے۔
۶
؎یعنی وہ دوردراز ملکوں کے مسلمان جنہوں نے کبھی جہاد نہ کیے وہ بھی اس فئ کے حصہ دار ہیں۔خیال رہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تقسیم فئ میں برابر کے قائل تھے کہ سب کو برابر حصہ دیا جائے۔مگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرق مراتب کے لحاظ سے تقسیم میں فرق کرنے کے قائل تھے یہ تھا ان کا اجتہادی اختلاف۔چنانچہ حضرت عمر عطا فئ میں جناب عائشہ کو اپنی بیٹی حفصہ پر ترجیح دیتے تھے، فرماتے تھے کہ اگرچہ یہ دونوں حضور کی زوجہ ہیں مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا محبوبہ زوجہ ہیں اور حفصہ کے والد یعنی میں حضور کو اتنے پیارے نہ تھے جتنے عائشہ رضی اللہ عنھا کے والد حضرت ابوبکر حضور کو پیارے تھے۔(مرقات)حضرت عبدابن عمر رضی اللہ عنھما کو ایک بار فئ کا حصہ حضرت اسامہ ابن زید سے کم دیا تو حضرت عبدنے عرض کیا کہ میں اور اسامہ ہجرت میں یکساں ہیں پھر آپ نے عطا میں فرق کیوں فرمایا تو آپ نے جواب دیا کہ اسامہ کے باپ زید حضور کو زیادہ پیارے تھے تمہارے باپ عمر سے اور اسامہ رضی اللہ عنہ حضور کو زیادہ پیارے تھے تم سے۔(مرقات)بہرحال حضرت فاروق اعظم تقسیم فئ میں فرق کے قائل تھے۔امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ مساوات کے قائل ہیں،وہ فئ کو میراث اور غنیمت پر قیاس کرتے ہیں کہ میراث عالم و جاہل بیٹے کو برابر ملتی ہے یوں ہی غنیمت کا مال افضل و ادنی مجاہد کو برابر ملتا ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4061