Main Icon

باب:فئ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4056

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِمَّا لَمْ يُوْجِفِ الْمُسْلِمُوْنَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ،فَكَانَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً، يُنْفِقُ عَلٰى أَهْلِهٖ نَفَقَةَ سَنَتِهِمْ، ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللّٰهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عمر قال: كانت أموال بني النضير مما أفاء الله على رسوله مما لم يوجف المسلمون عليه بخيل ولا ركاب،فكانت لرسول الله صلى الله عليه وسلم خاصة، ينفق على أهله نفقة سنتهم، ثم يجعل ما بقي في السلاح والكراع عدة في سبيل الله. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں کہ بنی نضیر کے مال ان میں سے تھے جو اللہ تعالٰی نے اپنے رسول پر فئ فرمائے جن پر مسلمانوں نے گھوڑے دوڑائےنہ اونٹ چنانچہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیئے خاص طور پر رہے کہ آپ اپنے گھر والوں کو ایک سال کا خرچ دےدیتے تھے پھرجو باقی بچتا اسے اللہ کی راہ میں ہتھیاروں جانوروں میں خرچ کرتےتھے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس کا مطلب وہ ہی ہے کہ بنی نضیر کے جلاوطن ہوجانے کے بعد ان کے متروکہ مالوں کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم اس طرح خرچ کرتے تھے کہ اولًا اپنے گھر کا سال بھر کا خرچ نکالا پھر باقی مال مجاہدین پر خرچ فرمایا۔خیال رہے کہ وہ جو احادیث پاک میں ہے کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ ہمارے گھر میں دو دو ماہ تک آگ نہ جلتی تھی یا یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے دو دن متواتر شکم سیر کھانا نہ ملاحظہ فرمایا یہ واقعات بنی نضیر کے مال حاصل کرنے سے پہلے کے ہیں بعد میں رب تعالٰی نے وسعت دے دی،پھر اس زمانہ کے بعد جو فقروفاقہ کی نوبت آتی تھی اس کی وجہ ازواج پاک کا زیادہ خیرات و صدقات تھے کہ یہ حضرات فقراء پر بہت خرچ فرمادیتی تھیں سال بھر کا خرچہ جلدختم ہوجاتا تھا اور نوبت فاقہ کو پہنچتی تھی،نیز اس سال کے خرچہ میں کچھ جو کچھ کھجوریں ہوتی تھیں سال ان ہی سے نکالا جاتا تھا۔ وہ جو حدیث شریف میں ہے کہ حضور دنیا سے تشریف لے گئے مگر پھر بھی مسلسل دو دن گندم کی روٹی شکم سیر ہوکر نہ کھائی،اس کا مطلب بھی یہ ہی ہے کہ کھانا کبھی روٹی کبھی کھجوریں تھا۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ چونکہ اس زمانہ پاک میں پلوں کی تعمیر،قاضیوں،علماء کی تنخواہوں کا رواج نہ تھا اور ہر وقت تیاری جہاد رہتی تھی اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم فئ کا مال اس پر ہی خرچ فرماتے تھے۔اب سلاطین پل،مساجد کی آبادی،فقہاء،علماءدین کی تنخواہوں پربھی خرچ کریں گے،سرکار اسی فئ سے فقراء مہاجرین پر بھی خرچ کرتے تھے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4056