Main Icon

باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5636

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يُعْطَى الْمُؤْمِنُ فِي الْجَنَّةِ قُوَّةَ كَذَا وَكَذَا مِنَ الْجمَاعِ". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّه! أَوَيُطِيقُ ذَلِكَ؟ قَالَ: "يُعْطَى قُوَّةَ مِئَةٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن أنس عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "يعطى المؤمن في الجنة قوة كذا وكذا من الجماع". قيل: يا رسول الله! أويطيق ذلك؟ قال: "يعطى قوة مئة". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرمایا جنت میں مؤمن کو جماع کی اتنی اتنی طاقت دی جاوے گی ۱∞؎عرض کیا گیا یارسول الله کیا وہ اس کی طاقت رکھے گا ۲؎فرمایا سو آدمیوں کی طاقت دی جاوے گی۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جنتی مرد کو اپنی بیویوں سے صحبت کرنے کی بہت ہی طاقت دی جاوے گی،اس کو صحبت سے کوئی کمزوری نہ ہوگی۔خیال رہے کہ وہاں صحبت میں منی خارج نہیں ہوگی کہ یہ گندگی ہے جیسے وہاں پیشاب پاخانہ نہیں ایسے ہی وہاں منی نہیں صرف ہوا خارج ہوگی مگر اس ہوا میں لذت منی سے زیادہ ہوگیھکذا قال بعض مشائخنا۔۲؎یعنی اتنی قوت مردمی کو ایک مرد کیسے سنبھالے گا،دنیا میں بعض لوگوں میں یہ طاقت اتنی ہوتی ہے کہ وہ ایک بیوی پر صبر نہیں کر سکتے اور عورت کی پلیدی کا زمانہ بمشکل گزار سکتے ہیں پھر وہاں ضبط کیسے ہوگا۔۳؎یعنی الله تعالٰی ایک جنتی کو دنیا کے سو مردوں کی برابر قوت شہوانی عطا فرمائے گا ساتھ ہی اس کو تحمل کی طاقت بھی دے گا اور مصرف بھی عطا فرمائے گا۔خیال رہے کہ ازروئے علم طب اعلٰی درجے کے جوان میں چوبیس گھنٹے میں پانچ بار صحبت کی طاقت ہوتی ہے، درمیانے درجہ والے میں تین بار کی مگر وہ اسےنبھا نہیں سکتا اور وہاں طاقت ہے سو مردوں کی تو گویا اس میں چوبیس گھنٹے کی پانچ سو بار صحبت کی طاقت ہوگی۔یہ بھی خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ و سلم کو الله تعالٰی نے سو جنتیوں کی طاقت دی تھی یعنی چار ہزار دنیاوی مردوں کی نو بیویوں پر حضور کا قناعت فرمانا انتہائی صبر تھا،حضرت سلیمان علیہ السلام کی ایک ہزار بیویاں تھیں،حضرت داؤد علیہ السلام کی ننانوے بیویاں تھیں، یہاں مرقات نے فرمایا کہ دوسری طاقتوں کا بھی یہی حال ہوگا بہرحال ہر طرح الله تعالٰی کا فضل ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5636