Main Icon

باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5642

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَن بُريدةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ فِي الْجَنَّةِ مِنْ خَيْلٍ؟ قَالَ: "إِنِ اللَّهُ أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ فَلَا تَشَاءُ أَنْ تُحْمَلَ فِيهَا عَلَى فَرَسٍ مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ يَطِيرُ بِكَ فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْتَ إِلَّا فَعَلْتَ"، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَل فِي الْجَنَّةِ مِنْ إِبلٍ؟ قَالَ: فَلَمْ يَقُلْ لَهُ مَا قَالَ لِصَاحِبِهِ. فَقَالَ: "إِنْ يُدْخِلْكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ يَكُنْ لَكَ فِيهَا مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ وَلَذَّتْ عَيْنُكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن بريدة أن رجلا قال: يا رسول الله! هل في الجنة من خيل؟ قال: "إن الله أدخلك الجنة فلا تشاء أن تحمل فيها على فرس من ياقوتة حمراء يطير بك في الجنة حيث شئت إلا فعلت"، وسأله رجل فقال: يا رسول الله! هل في الجنة من إبل؟ قال: فلم يقل له ما قال لصاحبه. فقال: "إن يدخلك الله الجنة يكن لك فيها ما اشتهت نفسك ولذت عينك". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ سے کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول الله کہ جنت میں گھوڑے ہوں گے ۱∞؎فرمایا کہ اگر تجھے الله جنت میں داخل فرما دے تو تو وہاں نہ چاہے گا کہ سرخ یاقوت کے گھوڑے پر سوار کیا جاوے جو تجھے جنت میں وہاں اڑا کر پہنچادے جہاں تو چاہے مگر ایسا کیا جاوے گا۲؎اور حضور سے ایک شخص نے پوچھا عرض کیا یارسول الله کیا جنت میں اونٹ ہوں گے،راوی کہتے ہیں کہ اس سے وہ نہ فرمایا جو اس کے ساتھی سے فرمایا تھا۳؎بلکہ فرمایا الله اگر تجھے جنت میں داخل فرمادے تو وہاں تیرے لیے ہر وہ چیز ہوگی جو تیرا دل چاہے اور تیری آنکھیں پسندکریں۴؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎شاید ان سائل صاحب کو گھوڑے پسند ہوں گے اس لیے وہ یہ سوال فرمارہے ہیں کہ میری مرغوب چیز بھی وہاں ہو گی یا نہیں۔خیال رہے کہ جنت میں جو چاہو گے وہ ملے گا جو چیز وہاں کے لائق نہ ہو اسکی خواہش دل میں پیدا ہی نہ ہوگی کوئی وہاں حقہ،چائے پان وغیرہ کی خواہش ہی نہ کرے گا۔۲؎یعنی اگر تم وہاں گھوڑے کی خواہش کرو گے تو تم کویہ لید پیشاب کرنے والا اور زمین پر دوڑنے والا گھوڑا نہیں بلکہ یاقوتی گھوڑا دوڑانے والا عطا ہوگا۔خیال رہے کہ وہاں جنتی کی اپنی اپنی رفتار بہت تیز ہوگی کہ اس کا گھر صد ہا میل کے علاقہ میں ہوگا اور اس کا اپنا مملوکہ رقبہ تو دنیا بھر سے زیادہ ہوگا مگروہ آن کی آن میں جہاں چاہے گا پہنچے گا،یہ گھوڑے وغیرہ کی عطا اظہار عزت اور زینت کے لیے ہوگی۔حضور معراج میں براق پر گئے مگر اس دن حضور کی خود اپنی رفتار براق سے کہیں تیز تھی اس لیے اس رات حضرات انبیاء براق کے پہنچنے سے پہلے آسمانوں میں اپنے مقامات پر پہنچ چکے تھے حالانکہ ان سب نے نماز بیت المقدس میں حضور کے پیچھے پڑھی تھی اور حضور کے بعد وہاں سے روانہ ہوئے تھے۔۳؎بلکہ اسے ایک جامع جواب عطا فرمایا جس سے اس کے تمام سوالات حل ہوگئے ورنہ اور لوگ بھیڑ بکریوں وغیرہ کے متعلق سوال کرتے۔۴؎اس حدیث کی تائید اس آیت سے ہے"وَ فِیۡہَا مَا تَشْتَہِیۡہِ الْاَنۡفُسُ وَ تَلَذُّ الْاَعْیُنُان فرمانوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں منہ سے مانگنے کی بھی ضرورت نہ پڑے گی بلکہ دل میں خیال آوے گا کہ چیز سامنے ہوگی حتی کہ وہاں سے پھل توڑنے کے لیے درختوں پر چڑھنا یا بانس سے ہلانا نہ پڑے گا بلکہ شاخیں خود جھک کر پھل اس کے منہ سے لگادیں گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5642