Main Icon

باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5615

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِئَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا، وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ أَوْ تَغْرُبُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن في الجنة شجرة يسير الراكب في ظلها مئة عام لا يقطعها، ولقاب قوس أحدكم في الجنة خير مما طلعت عليه الشمس أو تغرب". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کے سایہ میں سوار سو برس چلے گا ۱∞؎اور وہ طے نہ کرسکے گا اور تم میں سے ایک کے کمان کی جگہ جنت میں اس سے بہتر ہے جس پر سورج طلوع یا غروب ہوگا۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ درخت شجرہ طوبی ہے جس کے ہر پتہ پر لکھا ہےلا الہ الا الله محمد رسول الله۔سایہ سے مراد اس کے نیچے کا ایریا وہاں کا علاقہ ہے،یا تجلی الٰہی اور وہاں کی نورانیت،اس کا سایہ ہوگا،یا خود اس درخت کا نور،ظل دھوپ اور روشنی کو بھی کہتے ہیں۔غرضکہ یہ سورج والا سایہ مراد نہیں کہ وہاں سورج نہیں ہوگا۔سو اس سے مراد اتنا عرصہ ہے کہ اگر وہاں دن رات مہینے و سال ہوتے تو سو سال لگتے۔۲؎اس کی شرح ابھی کچھ پہلے گزر چکی ہے۔قابکے معنی ہیں برابر یا اندازہ،رب فرماتاہے:"فَکَانَ قَابَ قَوْسَیۡنِ اَوْ اَدْنٰی"کنارہ کمان کو بھی قاب کہتے ہیں۔(اشعہ)اس سے مراد ہے کم سے کم جگہ ورنہ وہاں کسی جنتی کو اتنی چھوٹی جگہ نہ ملے گی وہاں تو ادنی جنتی کا علاقہ دنیا بھر سے زیادہ ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5615