Main Icon

باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5653

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- كَانَ يَتَحَدَّثُ -وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ-: "إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ فِي الزَّرْعِ. فَقَالَ لَهُ: أَلَسْتَ فِيمَا شِئْتَ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنْ أُحِبُّ أَنْ أَزْرَعَ، فَبَذَرَ فَبَادَرَ الطَّرْفَ نَبَاتُهُ وَاسْتِوَاؤُهُ وَاسْتِحْصَادُهُ، فَكَانَ أَمْثَالَ الْجِبَالِ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: دُونَكَ يَا ابْنُ آدَمَ! فَإِنَّهُ لَا يُشْبِعُكَ شَيْءٌ". فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ: وَاللَّهِ لَا تَجدُهُ إِلَّا قُرَشِيًّا أو أَنْصَارِيًّا فَإِنَّهُمْ أَصْحَابُ زَرْعٍ، وَأَمَّا نَحْنُ فَلَسْنَا بِأَصْحَابِ زَرْعٍ، فَضَحِكَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

وعن أبي هريرة: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يتحدث -وعنده رجل من أهل البادية-: "إن رجلا من أهل الجنة استأذن ربه في الزرع. فقال له: ألست فيما شئت؟ قال: بلى، ولكن أحب أن أزرع، فبذر فبادر الطرف نباته واستواؤه واستحصاده، فكان أمثال الجبال، فيقول الله تعالى: دونك يا ابن آدم! فإنه لا يشبعك شيء". فقال الأعرابي: والله لا تجده إلا قرشيا أو أنصاريا فإنهم أصحاب زرع، وأما نحن فلسنا بأصحاب زرع، فضحك رسول الله -صلى الله عليه وسلم-. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم باتیں کررہے تھے اور آپ کے پاس دیہات والوں میں سے ایک شخص تھا کہ جنتیوں میں سے ایک آدمی اپنے رب سے کھیتی باڑی کی اجازت مانگے گا ۱∞؎رب اس سے فرمائے گا کہ کیا تو اپنی چاہی نعمتوں میں نہیں ہے ۲؎عرض کرے گا ہاں لیکن میں کھیتی کرنا چاہتا ہوں چنانچہ وہ بیچ بوئے گا۳؎تو پلک جھپکنے سے پہلے اس کا اگنا پورا ہوگا کٹ جانا ہوجاوے گا اور پہاڑوں کی طرح ہوجاوے گا۴؎تب الله تعالٰی فرمائے گا اے ابن آدم کوئی چیز تیرا پیٹ نہیں بھرتی۵؎تو وہ بدوی بولا رب کی قسم ایسا آدمی آپ قریشی یا انصاری ہی کو پائیں گے کہ وہ لوگ کھیتی باڑی والے ہیں۶؎رہے ہم،ہم تو کھیتی والے ہیں ہی نہیں رسول الله صلی الله علیہ و سلم ہنس پڑے ۷؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ شخص دنیا میں کھیتی باڑی کرتا تھا،اسے اس کا شوق وہ اپنا شوق پورا کرنے کو یہ عرض کرے گا کسی کمی کی وجہ سے نہیں۔۲؎یعنی باغات تو لذت کے لیے ہوتے ہیں وہ جنت میں موجود ہیں جن کے پھل کھارہا ہے،سیر کررہا ہے،آرام کی زندگی گزار رہا ہے، کھیت ضروت کے لیے دنیا میں ہوتے ہیں،یہاں ساری ضرورتیں پوری ہیں کھیت کی ضرورت نہیں پھر تو یہ مصیبت کیوں مانگتا ہے۔۳؎اس کی خواہش پر اسے بیج دیئے جائیں گے وہ اسی طرح زمین جنت میں یہ بیج پھینک دے گا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہل بیل سے زمین نرم کرے گا وہاں بیل اور ہل نہ ہوں گے دنیا میں بعض پہاڑی علاقوں میں یوں ہی بیج پھینک دینے سے جم جاتے ہیں وہ زمین جنت میں ہے۔۴؎یعنی ان تمام کاموں میں نہ وقت لگے گا نہ اسے محنت کرنا پڑے گی،بیج ڈالے گا اور سامنے کھیتی کٹی ہوئی نہیں بلکہ دانہ صاف کیے ہوئے کے پہاڑ کے پہاڑ سامنے ہوں گے۔۵؎فرمایا نبی صلی الله علیہ و سلم نے کہ لوگ جس حال میں جئیں گے اس حال میں مریں گے اور جس حال میں مریں گے اسی حال میں قیامت میں اٹھیں گے،یہ شخص زندگی میں کھیتی کرتا تھا،کرتا مرا تھا وہاں بھی یہ شوق و خیال رہا۔(مرقات)سنا ہے کہ حضرت بلال اذان کہتے ہوئے اٹھیں گے،عشاق رسول عشق میں سرشار جھومتے ہوئے اٹھیں گے۔شعر
نہ ہم جنت میں جائیں گےنہ ہم دوزخ میں جائیں گے کھڑے دیکھا کریں گے حشر میں صورت محمد کی
ایسے لوگوں کی حرص جنت میں بھی نہ جائے گی۔
(اشعہ)۶؎یعنی مکہ والے کچھ لوگ اور مدینہ والے عام لوگ ہی کھیتی باڑی کرتے ہیں انہیں کو یہ شوق وہاں بھی ہوگا،ہم لوگ بدوی نہ کھیتی کریں نہ ہم کو یہ شوق ہو۔خیال رہے کہ بدوی لوگ عمومًا جانور پالتے تھے۔۷؎آپ کی یہ ہنسی اس بدوی کی حاضر جوابی اور عقلمندی کی وجہ سے تھی۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرنا ہنسانا بھی عبادت ہے،ایک لونڈی نے حضور انور کے سامنے دف بجانے کی منت مانی تھی جیساکہان شاءاللهمناقب حضرت عمر کے باب میں اس کا ذکر آوے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5653