- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5653
باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5653
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- كَانَ يَتَحَدَّثُ -وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ-: "إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ فِي الزَّرْعِ. فَقَالَ لَهُ: أَلَسْتَ فِيمَا شِئْتَ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنْ أُحِبُّ أَنْ أَزْرَعَ، فَبَذَرَ فَبَادَرَ الطَّرْفَ نَبَاتُهُ وَاسْتِوَاؤُهُ وَاسْتِحْصَادُهُ، فَكَانَ أَمْثَالَ الْجِبَالِ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: دُونَكَ يَا ابْنُ آدَمَ! فَإِنَّهُ لَا يُشْبِعُكَ شَيْءٌ". فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ: وَاللَّهِ لَا تَجدُهُ إِلَّا قُرَشِيًّا أو أَنْصَارِيًّا فَإِنَّهُمْ أَصْحَابُ زَرْعٍ، وَأَمَّا نَحْنُ فَلَسْنَا بِأَصْحَابِ زَرْعٍ، فَضَحِكَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
وعن أبي هريرة: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يتحدث -وعنده رجل من أهل البادية-: "إن رجلا من أهل الجنة استأذن ربه في الزرع. فقال له: ألست فيما شئت؟ قال: بلى، ولكن أحب أن أزرع، فبذر فبادر الطرف نباته واستواؤه واستحصاده، فكان أمثال الجبال، فيقول الله تعالى: دونك يا ابن آدم! فإنه لا يشبعك شيء". فقال الأعرابي: والله لا تجده إلا قرشيا أو أنصاريا فإنهم أصحاب زرع، وأما نحن فلسنا بأصحاب زرع، فضحك رسول الله -صلى الله عليه وسلم-. رواه البخاري.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم باتیں کررہے تھے اور آپ کے پاس دیہات والوں میں سے ایک شخص تھا کہ جنتیوں میں سے ایک آدمی اپنے رب سے کھیتی باڑی کی اجازت مانگے گا ۱∞؎رب اس سے فرمائے گا کہ کیا تو اپنی چاہی نعمتوں میں نہیں ہے ۲؎عرض کرے گا ہاں لیکن میں کھیتی کرنا چاہتا ہوں چنانچہ وہ بیچ بوئے گا۳؎تو پلک جھپکنے سے پہلے اس کا اگنا پورا ہوگا کٹ جانا ہوجاوے گا اور پہاڑوں کی طرح ہوجاوے گا۴؎تب الله تعالٰی فرمائے گا اے ابن آدم کوئی چیز تیرا پیٹ نہیں بھرتی۵؎تو وہ بدوی بولا رب کی قسم ایسا آدمی آپ قریشی یا انصاری ہی کو پائیں گے کہ وہ لوگ کھیتی باڑی والے ہیں۶؎رہے ہم،ہم تو کھیتی والے ہیں ہی نہیں رسول الله صلی الله علیہ و سلم ہنس پڑے ۷؎(بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎یہ شخص دنیا میں کھیتی باڑی کرتا تھا،اسے اس کا شوق وہ اپنا شوق پورا کرنے کو یہ عرض کرے گا کسی کمی کی وجہ سے نہیں۔۲؎یعنی باغات تو لذت کے لیے ہوتے ہیں وہ جنت میں موجود ہیں جن کے پھل کھارہا ہے،سیر کررہا ہے،آرام کی زندگی گزار رہا ہے، کھیت ضروت کے لیے دنیا میں ہوتے ہیں،یہاں ساری ضرورتیں پوری ہیں کھیت کی ضرورت نہیں پھر تو یہ مصیبت کیوں مانگتا ہے۔۳؎اس کی خواہش پر اسے بیج دیئے جائیں گے وہ اسی طرح زمین جنت میں یہ بیج پھینک دے گا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہل بیل سے زمین نرم کرے گا وہاں بیل اور ہل نہ ہوں گے دنیا میں بعض پہاڑی علاقوں میں یوں ہی بیج پھینک دینے سے جم جاتے ہیں وہ زمین جنت میں ہے۔۴؎یعنی ان تمام کاموں میں نہ وقت لگے گا نہ اسے محنت کرنا پڑے گی،بیج ڈالے گا اور سامنے کھیتی کٹی ہوئی نہیں بلکہ دانہ صاف کیے ہوئے کے پہاڑ کے پہاڑ سامنے ہوں گے۔۵؎فرمایا نبی صلی الله علیہ و سلم نے کہ لوگ جس حال میں جئیں گے اس حال میں مریں گے اور جس حال میں مریں گے اسی حال میں قیامت میں اٹھیں گے،یہ شخص زندگی میں کھیتی کرتا تھا،کرتا مرا تھا وہاں بھی یہ شوق و خیال رہا۔(مرقات)سنا ہے کہ حضرت بلال اذان کہتے ہوئے اٹھیں گے،عشاق رسول عشق میں سرشار جھومتے ہوئے اٹھیں گے۔شعر
نہ ہم جنت میں جائیں گےنہ ہم دوزخ میں جائیں گے کھڑے دیکھا کریں گے حشر میں صورت محمد کی
ایسے لوگوں کی حرص جنت میں بھی نہ جائے گی۔(اشعہ)۶؎یعنی مکہ والے کچھ لوگ اور مدینہ والے عام لوگ ہی کھیتی باڑی کرتے ہیں انہیں کو یہ شوق وہاں بھی ہوگا،ہم لوگ بدوی نہ کھیتی کریں نہ ہم کو یہ شوق ہو۔خیال رہے کہ بدوی لوگ عمومًا جانور پالتے تھے۔۷؎آپ کی یہ ہنسی اس بدوی کی حاضر جوابی اور عقلمندی کی وجہ سے تھی۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرنا ہنسانا بھی عبادت ہے،ایک لونڈی نے حضور انور کے سامنے دف بجانے کی منت مانی تھی جیساکہان شاءاللهمناقب حضرت عمر کے باب میں اس کا ذکر آوے گا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5653