Main Icon

باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5627

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّ أَدْنَى مَقْعَدِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ أَنْ يَقُولَ لَهُ: تَمَنَّ، فَيَتمَنَّى وَيَتَمَنَّى، فَيَقُولُ لَهُ: هَلْ تَمَنَّيْتَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَقُولُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ مَا تَمَنَّيْتَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "إن أدنى مقعد أحدكم من الجنة أن يقول له: تمن، فيتمنى ويتمنى، فيقول له: هل تمنيت؟ فيقول: نعم، فيقول له: فإن لك ما تمنيت ومثله معه". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم میں سے ادنی ٹھکانے والے جنتی سے رب فرمائے گا آرزو کر وہ آرزو کرے گا اور آرزو کرے گا تو اس سے فرمائے گا کیا تو نے آرزو کرلی وہ کہے گا ہاں تو اس سے فرمائے گا کہ جو تو نے آرزوئیں کیں وہ اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور تیرے لیے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یتمنیدو بار فرمانا زیادتی بیان کرنے کے لیے ہے یعنی بندہ آرزو کرے گا اور خوب ہی کرے گا،بار بار کرے گا،جہاں تک اس کا خیال پہنچے وہاں تک کی تمنائیں کرلے گا۔خیال رہے کہ تمنا اور امید میں بڑا فرق ہے امید تو صرف ہوسکنے والی بات کی ہوتی ہے مگر تمنا ان ہونے والی بات کی بھی ہوسکتی ہے۔ایک بڈھا تمنا کرسکتا ہے کہ کاش میری جوانی لوٹ آتی،نہ معلوم بندہ تمنا کیا کیا کرے گا مجھ گنہگار کی تمنا تو یہ ہے اور ہوگی۔شعر
جو دل بخشا ہے مولٰی بخش دے الفت محمد کی جو آنکھیں دی ہیں دکھلادے مجھے صورت محمد کی
۲
؎یعنی وہ تمنائیں پوری ہوئیں تیری مانگ سے اور اتنا ہی اور دیا اپنے رحم خسروانہ کرم شاہانہ سے،پہلے ایک گنا ساتھ ہی دے گا آخر میں دس گنا لہذا یہ حدیث دس گنا والی حدیث کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5627