Main Icon

باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5629

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ قَالَ: ذُكِرَ لَنَا أَنَّ الْحَجَرَ يُلْقَى مِنْ شَفَةِ جَهَنَّمَ فَيَهْوِي فِيهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا لَا يُدْرِكُ لَهَا قَعْرًا وَاللَّهِ لَتُمْلَأَنَّ وَلَقَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ أَرْبَعِينَ سَنَةً وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَيْهَا يَوْمٌ وَهُوَ كَظِيظٌ مِنَ الزحام ". رَوَاهُ مُسلم

وعن عتبة بن غزوان قال: ذكر لنا أن الحجر يلقى من شفة جهنم فيهوي فيها سبعين خريفا لا يدرك لها قعرا والله لتملأن ولقد ذكر لنا أن ما بين مصراعين من مصاريع الجنة مسيرة أربعين سنة وليأتين عليها يوم وهو كظيظ من الزحام ". رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عتبہ ابن غزوان سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ ہم سے ذکر کیا گیا۲؎کہ دوزخ کے کنارے سے پتھر ڈالا جاوے گا تو اس میں ستر سال گرے گا اس کی تہہ نہ پاے گا ۳؎رب کی قسم وہ بھری جاوے گی اور ہم سے ذکر کیا گیا کہ جنت کی چوکھٹوں میں سے دو چوکھٹوں کے درمیان چالیس سالوں کا فاصلہ ہے اور اس پر ایک ایسا دن آوے گا جب وہ بھیڑ کی وجہ سے ٹھسا ہوگا۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎عتبہ ابن غزوان صحابی ہیں،بدری ہیں،ساتویں مسلمان ہیں کہ ان سے پہلے صرف چھ حضرات ایمان لائے تھے،بڑے تیر انداز تھے۔۲؎یا تو حضور انور نے فرمایا یاکسی صحابی نے۔خیال رہے کہ صحابی کی مرسل حدیث بالاتفاق قبول ہے،بعد والوں کے مرسلات میں اختلاف ہے۔(مرقات)۳؎الله اکبر !یہ ہے دوزخ کی گہرائی،پتھر اگر آسمان سے پھینکا جاوے تو صبح سے چلا ہوا شام تک زمین پر پہنچ جاوے مگر دوزخ کے کنارے سے چلا ہوا ستر سال میں اس کی تہہ تک نہ پہنچے،سوچ لو گہرائی کتنی ہے اتنی گہرائی دوزخ کو کفار انسانوں سے بھرنا ہے۔۴؎یعنی جنت کے ہر درازہ کی چوڑائی چالیس سال کی راہ ہے اس قدر وسعت کے بعد جب جنتی اس میں داخل ہوں گے تو ان کے کھوئے سے چھلتے ہوں گے اژدھام اور بھیڑ کا یہ حال ہوگا۔خیال رہے کہ یہ ٹھسنا جب ہوگا جب کہ عام جنتی داخل ہوں گے۔سب سے پہلے ہمارے حضور داخل ہوں گے دروازہ کھلے گا انہیں کے لیے،پھر دوسرے انبیاءکرام،پھر حضور صلی الله علیہ و سلم کی امت ترتیب وار پھر دوسری امتیں،جس جماعت کے داخلہ کی باری آوے گی دروازہ ٹھس جاوے گا،الله ہم کو بھی نصیب کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5629