Main Icon

باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5626

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ فَيَقُولُونَ: لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، فَيَقُولُ: هَلْ رَضِيتُمْ؟ فَيَقُولُونَ: وَمَا لَنَا لَا نَرْضَى يَا رَبِّ! وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ؟ فَيَقُولُ: أَلَا أُعْطِيكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ؟ فَيَقُولُونَ: يَا رَبِّ! وَأَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ؟ فَيَقُولُ: أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِي، فَلَا أَسْخَطُ عَلَيكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي سعيد قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن الله تعالى يقول لأهل الجنة: يا أهل الجنة فيقولون: لبيك ربنا وسعديك، والخير كله في يديك، فيقول: هل رضيتم؟ فيقولون: وما لنا لا نرضى يا رب! وقد أعطيتنا ما لم تعط أحدا من خلقك؟ فيقول: ألا أعطيكم أفضل من ذلك؟ فيقولون: يا رب! وأي شيء أفضل من ذلك؟ فيقول: أحل عليكم رضواني، فلا أسخط عليكم بعده أبدا". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ الله تعالٰی جنت والوں سے فرمائے گا اے جنتیو! وہ عرض کریں گے ہم حاضر ہیں اے ہمارے رب بندے ہیں تیرے اور ساری خیر تیرے ہاتھ ہے ۱∞؎وہ فرمائے گا کیا تم خوش ہوگئے ۲؎عرض کریں گے ہم کیوں خوش نہ ہوں یا رب تو نے ہم کو وہ دیا جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہ دیا ۳؎تو فرمائے گا کیا میں تم کو اس سے بھی اعلٰی افضل نعمت نہ دوں وہ عرض کریں گے یارب اس سے افضل کوئی چیز ہے ۴؎تو فرمائے گا تم پر اپنی رضا نازل کروں گا تو اس کے بعد تم پر کبھی ناراض نہ ہوں ۵؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎عربی میں جب آقا و مولٰی کی پکار کا جواب دیتے ہیں تو ایسے الفاظ بولتے ہیں حضور حاضر ہوں،خدمت گار ہوں،ہر چیز آپ کے ہاتھ میں ہے۔چونکہ جنت میں ہر کلام عربی زبان میں ہوگا آپس میں بھی اور رب تعالٰی سے بھی اس لیے عربی کے محاورہ وہاں استعمال ہوں گے، بعض روایات میں ہے کہ اہل جنت کی عربی زبان ہے اور دوزخیوں کی زبان فارسی ہوگی کہ یہ رب تعالٰی کے قہر کے اظہار کی زبان ہے۔۲؎سبحان الله!کیسا دل نواز سوال ہے۔دوستوں یہاں ہم رب کو راضی کرلیں وہاں ہم کو رب خوش کرے گا،یہ چند روزہ زندگی اس کی رضا میں گزاریں الله توفیق دے۔۳؎یعنی مولٰی تو نے ہم کو یہاں وہ نعمتیں بخشیں جو فرشتوں جنات وغیرہ کسی مخلوق کو نہ بخشیں۔خیال رہے کہ جنات تو جنت میں جائیں گے ہی نہیں فرشتے اگرچہ وہاں ہوں گے مگر اہل جنت کی خدمت کے لیے نہ کہ وہاں کی نعمتیں استعمال کرنے کے لیے،وہ کھانے پینے شہوت سے پاک ہیں لہذا یہ عرض بالکل درست ہے۔۴؎یعنی ہماری عقل میں یہ بات نہیں آتی کہ ان نعمتوں سے بہتر اور کون سی نعمت ہوسکتی ہے اعلٰی سے اعلٰی نعمتیں تو تو نے ہم کو عطا فرمادی ہیں۔۵؎اس فرمان عالی سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ الله تعالٰی کی رضا تمام نعمتوں سے اعلٰی ہے کہ یہ رضا ہی بقاء کا دیدار کا ذریعہ ہے،جس سے مالک خوش ہوگیا تو ہر چیز اس کی ہوگئی۔دوسرے یہ کہ الله تعالٰی کے راضی ہونے کی علامت یہ ہے کہ بندہ اس سے راضی ہوجاتا ہے،بندہ کے راضی ہوجانے کی علامت یہ ہے کہ وہ رب کے احکام اس کی بھیجی ہوئی تکالیف سے راضی رہتا ہے کبھی اس کی شکایت نہیں کرتا دیکھو یہاں رب تعالٰی نے پہلے بندوں سے ان کی رضا پوچھی پھر اپنی رضا کی خبر دی۔اس حدیث کی تائید وہ آیات کرتی ہیں"وَرِضْوٰنٌ مِّنَ اللہِ اَکْبَرُ"اور"رَضِیَα اللہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوۡا عَنْہُصوفیاء فرماتے ہیں کہ اگر بندہ یہ جاننا چاہے کہ رب مجھ سے راضی ہے یا نہیں تو وہ غور کرے کہ وہ رب سے راضی ہے یا نہیں،راضی ہوجاؤ راضی کرلو،اس کا ذکر کرو اپنا ذکر کراؤ۔مولانا فرماتے ہیں شعر
گفت الله گفتنت لبیک ماست ایں گداز و سوز و دراز بیک ماست

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5626