Main Icon

باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5619

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ.كَأَشَدِّ كَوْكَبٍ دُرِّيِّ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً، قُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ، لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ وَلَا تَبَاغُضَ، لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، يُرَى مُخُّ سُوقِهِنَّ مِنْ وَرَاءِ الْعَظْمِ وَاللَّحْم مِنَ الْحُسْنِ، يُسَبِّحُونَ اللَّهَ بُكْرَةً وَعَشِيًّا، لَا يَسْقَمُونُ، وَلَا يَبُولُونَ، وَلَا يَتَغَوَّطُونَ، وَلَا يَتْفُلُونَ، وَلَا يَمْتَخِطُونَ، آنِيَتُهُمُ الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ، وَأَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ، وَوَقُودُ مَجَامِرِهِمُ الأَلُوَّةُ، وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ، عَلَى خُلُقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ، عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ آدَمَ سِتُّونَ ذِرَاعًا فِي السَّمَاءِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن أول زمرة يدخلون الجنة على صورة القمر ليلة البدر، ثم الذين يلونهم.كأشد كوكب دري في السماء إضاءة، قلوبهم على قلب رجل واحد، لا اختلاف بينهم ولا تباغض، لكل امرئ منهم زوجتان من الحور العين، يرى مخ سوقهن من وراء العظم واللحم من الحسن، يسبحون الله بكرة وعشيا، لا يسقمون، ولا يبولون، ولا يتغوطون، ولا يتفلون، ولا يمتخطون، آنيتهم الذهب والفضة، وأمشاطهم الذهب، ووقود مجامرهم الألوة، ورشحهم المسك، على خلق رجل واحد، على صورة أبيهم آدم ستون ذراعا في السماء". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایارسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ پہلا گروہ جو جنت میں جاوے گا ۱∞؎وہ چودھویں رات کے چاند کی شکل پر ہوگا۲؎پھر جو ان سے متصل ہوں گے آسمان کے تیز چمک دار تارے کی روشنی میں ہوں گے۳؎ان سب کے دل ایک آدمی کے دل کے موافق ہوں گے کہ نہ ان میں مخالفت نہ بغض۴؎ان میں سے ہرشخص کی دو بیویاں ہوں گی بڑی آنکھوں والی حوروں میں سے۵؎جن کی پنڈلیوں کی مینگ حسن کی وجہ سے ہڈی و گوشت کے اوپر سے دیکھی جاوے گی ۶؎صبح شام الله کی تسبیح پڑھیں گے۷؎نہ کبھی بیمار ہوں گے نہ پیشاب پاخانہ کریں گے اور نہ تھوکیں گے نہ ناک صاف کریں گے ۸؎ان کے برتن سونے چاندی کے ہوں گے ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی ان کی انگیٹھیوں کا ایندھن لوبان اور ان کا پسینہ مشک ہوگا ۹؎ایک آدمی کے عادت پر ۱۰؎اپنے باپ حضرت آدم کے شکل پر ساٹھ گز بلند ۱۱∞؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎پہلے گروہ سے مراد یا حضرات انبیاء کرام ہیں یا انبیاء کرام اور خاص اولیاءالله۔(مرقات)ظاہر یہ ہے کہ صرف انبیاء کرام مراد ہیں کہ جنت میں پہلے وہ ہی تشریف لے جائیں گے۔۲؎جنت میں سارے نبی چاند کی طرح حسین ہوں گے ہمارے حضور سورج کی طرح حسین ہوں گے۔(مرقات)کیوں نہ ہوں کہ حضور نبوت کے آسمان کے سورج،رب فرماتاہے:" وَ سِرَاجًا مُّنِیۡرًا۳؎یعنی حضرات انبیاءکرام کے بعد والے حضرات اولیاء،علماء،شہداء،صالحین چمک دار تاروں کی شکل میں ہوں گے خصوصًا صحابہ کرام کہ وہ تو دنیا میں بھی آسمان ہدایت کے تارے ہیںاصحابی کالنجوم۔۴؎یعنی جیسے اگر گھر میں اکیلا ایک آدمی ہو تو وہاں لڑائی جھگڑا ناممکن ہے ایسے ہی جنت میں بے شمار مخلوق ہوگی مگر لڑائی جھگڑا ناممکن ہوگا۔۵؎حورجمع ہےحوراکی بمعنی صاف و سفید،عینجمع ہےعیناءکی بمعنی بڑی آنکھ والی یعنی خاص حسن کی بیویاں جنس حور سے صرف دو ہوں گی اس کے علاوہ اور بہت سی ہوں گی لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ ان جنتیوں کی بیویاں ستر سے زیادہ ہوں گی کہ وہاں دوسرے درجے کی بیویاں مراد ہیں۔(اشعہ)۶؎یعنی ان کا گوشت پوست ہڈیاں سب نورانی اور شفاف ہوں گی کہ ان میں کوئی چیز کسی کے لیے حجاب نہ ہوگی یہ نورانیت اور شفافی ان کے حسن کا باعث ہوگی۔دنیا میں اگر گوشت پھٹ جاوے اور مینگ نظر آجاوے تو برا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں یہ چیز نفرت انگیز ہے۔۷؎یعنی ہر وقت بلکہ ہر سانس میں رب کی حمد اور قدوسی ہوگی،صبح شام سے مراد ہے ہمیشگی۔۸؎یعنی یہ فضلات جنت میں نہ ہوں گے کہ یہ چیزیں گھن اور نفرت کا باعث ہیں،وہاں نفرت کہاں۔تفلتھوک کو کہتے ہیں اورمخاطرینٹ کو۔۹؎خیال رہے کہ جنت میں کنگھی ہوگی جو بالوں میں کی جاوے گی مگر میل دور کرنے کے لیے نہیں کہ وہاں میل جوں،کٹھمل نہیں بلکہ بال نکھارنے حسن بڑھانے کے لیے،یوں ہی وہاں انگیٹھی بھی ہوگی اس میں لوبان بھی سلگے گا مگر آگ کے بغیر کہ جنت میں آگ نہیں جیسے وہاں پرندوں کا بھنا ہوا گوشت ملے گا مگر یہ گوشت آگ پر نہ پکے گا،رب فرماتاہے:"وَ لَحْمِ طَیۡرٍ مِّمَّا یَشْتَہُوۡنَنیز جنتیوں کو پسینہ آوے گا مگر گرمی سے نہیں کہ جنت میں نہ سورج کی گرمی نہ آگ کی تپش،یہ پسینہ بہت ہی آرام دہ ہوگا ان الفاظ سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔۱۰؎اگرخلقخ کے پیش سے ہے تو اس کی شرح ابھی ہوچکی کہ وہاں لڑائی جھگڑا بغض و حسد نہ ہوگا اور اگر خ کے فتحہ سے ہے تو معنی یہ ہیں کہ سب جنتی ایک ہی قد کے ہوں گے ہم عمر ہوں گے،تیس یا تینتیس سالہ جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے جیساکہ معلوم ہوگا۔۱۱∞؎یعنی سارے جنتی ساٹھ ہاتھ کے ہوں گے،شرعی گز ایک ہاتھ یعنی ڈیڑھ فٹ کا ہوتا ہے وہ ہی یہاں مراد ہے آدم علیہ السلام کا قد اتنا ہی تھا۔فی السماءفرماکر بتایا گیا کہ اس سے لمبائی مراد ہے نہ کہ چوڑائی۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ سارے نبی نہایت حسین اور بہت ہی خوش آواز ہوں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5619