- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5619
باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5619
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ.كَأَشَدِّ كَوْكَبٍ دُرِّيِّ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً، قُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ، لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ وَلَا تَبَاغُضَ، لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، يُرَى مُخُّ سُوقِهِنَّ مِنْ وَرَاءِ الْعَظْمِ وَاللَّحْم مِنَ الْحُسْنِ، يُسَبِّحُونَ اللَّهَ بُكْرَةً وَعَشِيًّا، لَا يَسْقَمُونُ، وَلَا يَبُولُونَ، وَلَا يَتَغَوَّطُونَ، وَلَا يَتْفُلُونَ، وَلَا يَمْتَخِطُونَ، آنِيَتُهُمُ الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ، وَأَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ، وَوَقُودُ مَجَامِرِهِمُ الأَلُوَّةُ، وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ، عَلَى خُلُقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ، عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ آدَمَ سِتُّونَ ذِرَاعًا فِي السَّمَاءِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن أول زمرة يدخلون الجنة على صورة القمر ليلة البدر، ثم الذين يلونهم.كأشد كوكب دري في السماء إضاءة، قلوبهم على قلب رجل واحد، لا اختلاف بينهم ولا تباغض، لكل امرئ منهم زوجتان من الحور العين، يرى مخ سوقهن من وراء العظم واللحم من الحسن، يسبحون الله بكرة وعشيا، لا يسقمون، ولا يبولون، ولا يتغوطون، ولا يتفلون، ولا يمتخطون، آنيتهم الذهب والفضة، وأمشاطهم الذهب، ووقود مجامرهم الألوة، ورشحهم المسك، على خلق رجل واحد، على صورة أبيهم آدم ستون ذراعا في السماء". متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایارسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ پہلا گروہ جو جنت میں جاوے گا ۱∞؎وہ چودھویں رات کے چاند کی شکل پر ہوگا۲؎پھر جو ان سے متصل ہوں گے آسمان کے تیز چمک دار تارے کی روشنی میں ہوں گے۳؎ان سب کے دل ایک آدمی کے دل کے موافق ہوں گے کہ نہ ان میں مخالفت نہ بغض۴؎ان میں سے ہرشخص کی دو بیویاں ہوں گی بڑی آنکھوں والی حوروں میں سے۵؎جن کی پنڈلیوں کی مینگ حسن کی وجہ سے ہڈی و گوشت کے اوپر سے دیکھی جاوے گی ۶؎صبح شام الله کی تسبیح پڑھیں گے۷؎نہ کبھی بیمار ہوں گے نہ پیشاب پاخانہ کریں گے اور نہ تھوکیں گے نہ ناک صاف کریں گے ۸؎ان کے برتن سونے چاندی کے ہوں گے ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی ان کی انگیٹھیوں کا ایندھن لوبان اور ان کا پسینہ مشک ہوگا ۹؎ایک آدمی کے عادت پر ۱۰؎اپنے باپ حضرت آدم کے شکل پر ساٹھ گز بلند ۱۱∞؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎پہلے گروہ سے مراد یا حضرات انبیاء کرام ہیں یا انبیاء کرام اور خاص اولیاءالله۔(مرقات)ظاہر یہ ہے کہ صرف انبیاء کرام مراد ہیں کہ جنت میں پہلے وہ ہی تشریف لے جائیں گے۔۲؎جنت میں سارے نبی چاند کی طرح حسین ہوں گے ہمارے حضور سورج کی طرح حسین ہوں گے۔(مرقات)کیوں نہ ہوں کہ حضور نبوت کے آسمان کے سورج،رب فرماتاہے:" وَ سِرَاجًا مُّنِیۡرًا"۔۳؎یعنی حضرات انبیاءکرام کے بعد والے حضرات اولیاء،علماء،شہداء،صالحین چمک دار تاروں کی شکل میں ہوں گے خصوصًا صحابہ کرام کہ وہ تو دنیا میں بھی آسمان ہدایت کے تارے ہیںاصحابی کالنجوم۔۴؎یعنی جیسے اگر گھر میں اکیلا ایک آدمی ہو تو وہاں لڑائی جھگڑا ناممکن ہے ایسے ہی جنت میں بے شمار مخلوق ہوگی مگر لڑائی جھگڑا ناممکن ہوگا۔۵؎حورجمع ہےحوراکی بمعنی صاف و سفید،عینجمع ہےعیناءکی بمعنی بڑی آنکھ والی یعنی خاص حسن کی بیویاں جنس حور سے صرف دو ہوں گی اس کے علاوہ اور بہت سی ہوں گی لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ ان جنتیوں کی بیویاں ستر سے زیادہ ہوں گی کہ وہاں دوسرے درجے کی بیویاں مراد ہیں۔(اشعہ)۶؎یعنی ان کا گوشت پوست ہڈیاں سب نورانی اور شفاف ہوں گی کہ ان میں کوئی چیز کسی کے لیے حجاب نہ ہوگی یہ نورانیت اور شفافی ان کے حسن کا باعث ہوگی۔دنیا میں اگر گوشت پھٹ جاوے اور مینگ نظر آجاوے تو برا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں یہ چیز نفرت انگیز ہے۔۷؎یعنی ہر وقت بلکہ ہر سانس میں رب کی حمد اور قدوسی ہوگی،صبح شام سے مراد ہے ہمیشگی۔۸؎یعنی یہ فضلات جنت میں نہ ہوں گے کہ یہ چیزیں گھن اور نفرت کا باعث ہیں،وہاں نفرت کہاں۔تفلتھوک کو کہتے ہیں اورمخاطرینٹ کو۔۹؎خیال رہے کہ جنت میں کنگھی ہوگی جو بالوں میں کی جاوے گی مگر میل دور کرنے کے لیے نہیں کہ وہاں میل جوں،کٹھمل نہیں بلکہ بال نکھارنے حسن بڑھانے کے لیے،یوں ہی وہاں انگیٹھی بھی ہوگی اس میں لوبان بھی سلگے گا مگر آگ کے بغیر کہ جنت میں آگ نہیں جیسے وہاں پرندوں کا بھنا ہوا گوشت ملے گا مگر یہ گوشت آگ پر نہ پکے گا،رب فرماتاہے:"وَ لَحْمِ طَیۡرٍ مِّمَّا یَشْتَہُوۡنَ"۔نیز جنتیوں کو پسینہ آوے گا مگر گرمی سے نہیں کہ جنت میں نہ سورج کی گرمی نہ آگ کی تپش،یہ پسینہ بہت ہی آرام دہ ہوگا ان الفاظ سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔۱۰؎اگرخلقخ کے پیش سے ہے تو اس کی شرح ابھی ہوچکی کہ وہاں لڑائی جھگڑا بغض و حسد نہ ہوگا اور اگر خ کے فتحہ سے ہے تو معنی یہ ہیں کہ سب جنتی ایک ہی قد کے ہوں گے ہم عمر ہوں گے،تیس یا تینتیس سالہ جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے جیساکہ معلوم ہوگا۔۱۱∞؎یعنی سارے جنتی ساٹھ ہاتھ کے ہوں گے،شرعی گز ایک ہاتھ یعنی ڈیڑھ فٹ کا ہوتا ہے وہ ہی یہاں مراد ہے آدم علیہ السلام کا قد اتنا ہی تھا۔فی السماءفرماکر بتایا گیا کہ اس سے لمبائی مراد ہے نہ کہ چوڑائی۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ سارے نبی نہایت حسین اور بہت ہی خوش آواز ہوں گے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5619