Main Icon

باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5637

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- أَنَّهُ قَالَ: "لَوْ أَنَّ مَا يُقِلُّ ظُفْرٌ مِمَّا فِي الْجَنَّةِ بَدَا لَتَزَخْرَفَتْ لَهُ مَا بَيْنَ خَوَافِقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَ فَبَدَا أَسَاوِرُهُ لَطَمَسَ ضَوْؤُهُ ضَوْءَ الشَّمْسِ كَمَا تَطْمِسُ الشَّمْسُ ضَوْءَ النُّجُومِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

وعن سعد بن أبي وقاص عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه قال: "لو أن ما يقل ظفر مما في الجنة بدا لتزخرفت له ما بين خوافق السماوات والأرض، ولو أن رجلا من أهل الجنة اطلع فبدا أساوره لطمس ضوؤه ضوء الشمس كما تطمس الشمس ضوء النجوم". رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرمایا جنت کی وہ نعمتیں جو جنتی کا ناخن اٹھائے گا ۱∞؎ظاہر ہوجاوے تو اس سے آسمانوں اور زمین کناروں کے درمیان کی جڑیں سج جاویں گی ۲؎اور اگر کوئی جنتی آدمی جھانک لے تو اس کے کنگن ظاہر ہوجاویں تو ان کی روشنی سورج کی روشنی کو مٹا دے۳؎جیسے سورج تاروں کی روشنی کو مٹا دیتا ہے۴؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎دنیا میں انسانوں کے ناخن میں میل بھرا ہوتا ہے جو گندا ہوتا ہے وہاں جنتیوں کے ناخنوں میں جو چیز ہوگی اس کا یہ حال ہوگا۔خیال رہے کہ یہ فرمان عالی سمجھانے کے لیے ہے یعنی وہاں کی معمولی چیز کا یہ حال ہوگا۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ جنتیوں کے ناخنوں بڑے بڑے ہوں گے اس میں کچھ بھرا ہوا ہوگا۔۲؎خوافقبنا ہےخفقسے بمعنی حرکت کرنا بے قرار ہونا،اسی سے ہے خفقان دل،مشرق و مغرب کو خوافیق اس لیے کہتے ہیں کہ وہاں سے ہی دن و رات طلوع و غروب ہوتے ہیں،چاند تارے سورج حرکت کرتے ہوئے نکلتے ڈوبتے ہیں۔۳؎اساورجمع ہےاسورہکی اوراسورہجمع ہےسوارکی،سوارکنگن کو کہتے ہیں،دنیا میں مردوں کو زیور پہننا حرام ہے کہ یہاں جہاد وغیرہ کرتے ہیں وہاں مباح ہوگا،ہر جنتی زیوروں سے لدا پھدا ہوگا،پھر زیور کی قیمت کا یہ حال ہوگا۔۴؎اس کی شرح ابھی کچھ پہلے گزرگئی۔جنتیوں کے چہرے دنیا کے سورج سے کہیں روشن ہوں گے،ان کے مقابل سورج تارا ہے ان کے چہروں کو دیکھنے کے لیے آنکھ بھی اور ہی قسم کی عطا ہوگی جو ان کی جھلک برداشت کرسکے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5637