Main Icon

باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5618

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَسُوقًا يَأْتُونَهَا كُلَّ جُمُعَةٍ، فَتَهُبُّ رِيحُ الشَّمَالِ فَتَحْثُو فِي وُجُوهِهِمْ وَثِيَابِهِمْ، فَيَزْدَادُوْنَ حُسْنًا وَجَمَالًا،فَيَرْجِعُوْنَ إِلى أَهْلِيْهِمْ وَقَدِ ازْدَادُوا حُسُنًا وَجَمَالًا، فَيَقُولُ لَهُمْ أَهْلُوهُمْ: وَاللَّهِ لَقَدِ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا، فَيَقُولُونَ: وَأَنْتُمْ وَاللَّهِ لَقَدِ ازْدَدْتُمْ حُسْنًا وَجَمَالًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أنس قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن في الجنة لسوقا يأتونها كل جمعة، فتهب ريح الشمال فتحثو في وجوههم وثيابهم، فيزدادون حسنا وجمالا،فيرجعون إلى أهليهم وقد ازدادوا حسنا وجمالا، فيقول لهم أهلوهم: والله لقد ازددتم بعدنا حسنا وجمالا، فيقولون: وأنتم والله لقد ازددتم حسنا وجمالا". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جنت میں ایک بازار ہے جہاں جنتی ہر جمعہ کو آئیں گے ۱∞؎تو شمالی ہوا چلے گی ان کے چہروں ان کے کپڑوں میں بھرجاوے گی جس سے ان کا حسن و جمال اور بڑھ جاوے گا۲؎پھر یہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹیں گے جو حسن و جمال میں بڑھ چکے ہوں گے ۳؎ان سے ان کے گھر والے کہیں گے الله کی قسم تم تو ہمارے پیچھے حسن و جمال میں بہت بڑھ گئے تو یہ کہیں گے رب کی قسم تم لوگ بھی ہمارے پیچھے حسن و جمال میں بہت بڑھ گئے ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎وہاں یہ بازار کاروبار یا خریدوفروخت کا نہیں بلکہ آپس کی ملاقات کا ہے اور رب کے دیدار کا،وہاں سارے جنتی جمع ہوا کریں گے اور وہاں دیدار یار کے سودے ملیں گے،حضور کا دیدار،صحابہ کرام کی ملاقات بلکہ رب العالمین کا دیدار یہاں ہوا کرے گا۔جمعہ سے مراد پورا ہفتہ ہے اور اسی سے ہفتہ بھر کی مقدار مراد ہے کہ جنت میں نہ دن رات ہے نہ ہفتہ مہینہ وغیرہ۔مرقات نے فرمایا کہ جنت کے بعض وقت دوسرے وقتوں سے افضل ہوں گے جسے علماء دین ہی پہچانیں گے اس افضل وقت کا نام جمعہ ہوگا۔جنتی لوگ علماء سے وہ وقت معلوم کرکے اس بازار میں جایا کریں گے وہاں ان سے رب تعالٰی فرمائے گا جو چاہو مانگو یہ لوگ علماء سے پوچھ کر مانگیں گے لہذا علماء کی ضرورت وہاں بھی ہوگی۔(مرقات)گویا جنت میں یہ جمعہ کا دن رب کی نعمتوں کی زیادتی کا دن ہوگا جیسے دنیا میں جمعہ زیادتی عطا کا دن ہے اس میں ایک نیکی کا ثواب ستر۷۰ گنا ہے۔۲؎یعنی تم دنیا میں جس ہوا کو شمالی(اتّروالی)ہوا کہتے ہو جو بارش لاتی ہے،وہاں ایسی ہوا چلے گی جو خوشبو عطر وغیرہ ان کے جسموں سے بھردے گی۔خیال رہے کہ جب ہم مغرب کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوں تو داہنے ہاتھ کا رخ شمال ہے۔وہاں چونکہ مشرق و مغرب نہ ہوگا لہذا شمال و جنوب بھی نہ ہوگا۔اہل عرب بلکہ تمام دنیا والے شمالی ہوا کو بہت مبارک سمجھتے ہیں اسے مون سون کہتے ہیں،یہ بارش لاتی ہے اس لیے اسے شمالی ہوا فرمایا۔(مرقات)۳؎یعنی یہ جنتی جب اس بازار سے اپنے گھر واپس ہوں گے تو ان کا حسن و جمال انکی مہک خوشبو وغیرہ اور بھی زیادہ ہوچکی ہوگی جس پر ان کے گھر والے یہ کہیں گے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بازار میں صرف مرد جایا کریں گے، عورتیں اپنے گھروں میں رہا کریں گی تاکہ عورتوں مردوں کا خلط نہ ہو۔پردہ وہاں بھی ہوگا مگر عورتوں کو یہاں ہی وہ سب کچھ دے دیا جایا کرے گا جو مردوں کو بازار میں بلا کر دیا جائے گا جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔۴؎یعنی اے بیویو ہم تو اس بازار میں جاکر یہ حسن وجمال،خوشبو،مہک،بھڑک لائے تم کو یہاں گھر بیٹھے ہی یہ سب کچھ مل گیا۔یا تو وہ ہوا ان بیویوں کو یہاں ہی پہنچ جایا کرے گی،یا ان مردوں کے قرب سے انہیں سے بھی وہ حسن و مہک ملے گا یا مردوں کو اپنا حسن اپنے گھر والوں میں نظر آوے گا،اپنی خوشبو ان سے بھی محسوس ہوگی۔(مرقات)جس کا ہاتھ عطر سے مہک رہا ہو وہ جس سے مصافحہ کرے اسے بھی مہکا دیتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5618