Main Icon

باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5649

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَمُجْتَمَعًا لِلْحُورِ الْعِينِ، يَرْفَعْنَ بِأَصْوَاتٍ لَمْ تَسْمَعِ الْخَلَائِقُ مِثْلَهَا، يَقُلْنَ: نَحْنُ الْخَالِدَاتُ فَلَا نَبِيدُ، وَنَحْنُ النَّاعِمَاتُ فَلَا نَبْأَسُ، وَنَحْنُ الرَّاضِيَاتُ فَلَا نَسْخَطُ، طُوبَى لِمَنْ كانَ لَنَا وَكُنَّا لَهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن علي قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن في الجنة لمجتمعا للحور العين، يرفعن بأصوات لم تسمع الخلائق مثلها، يقلن: نحن الخالدات فلا نبيد، ونحن الناعمات فلا نبأس، ونحن الراضيات فلا نسخط، طوبى لمن كان لنا وكنا له". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جنت میں آنکھ والی حوروں کا مجمع ہوتا ہے ۱∞؎جو اپنی آوازیں بلند کرتی ہیں ایسی آواز مخلوق نے کبھی نہ سنی ۲؎کہتی ہیں کہ ہم ہمیشہ رہنے والیاں ہیں،کبھی نہ فنا ہوں گے اور ہم خوش رہنے والیاں ہیں کبھی غمگین نہ ہوں گے،ہم راضی رہنے والیاں کبھی ناراض نہ ہوں گی۳؎اسے خوشخبری ہو جو ہمارا ہو اور ہم اس کے ہوں۴؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں مرقات میں ہے کہ حوروں کی پیدائش جنتی زعفران اور فرشتوں کی تسبیح سے ہے۔یہ پیدائش ہوچکی ہیں ان کے مجمعے وقتًا فوقتا ہوتے ہیں،ان مجمعوں میں وہ یہ کہتی ہیں جو یہاں مذکورہ ہے۔(مرقات)۲؎یعنی ایسی خوش آوازی سے وہ یہ کہتی ہیں کہ مخلوق نے کبھی ایسی دلکش و پیاری آواز کبھی نہ سنی۔معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ آواز سنی ہے۔۳؎یعنی ہم میں تین صفات ہیں: ہمیشہ کی زندگی،ہمیشہ کا چین،ہمیشہ اپنے خاوند سے خوش رہنا اور ہم تین عیبوں سے پاک ہیں۔فنا یعنی موت،محتاجی اور دوسری تکالیف بیماری وغیرہ ناراضی،خاوند سے لڑائی جھگڑا ہم کو جان پہچان لو۔۴؎خیال رہے کہ ہر حور کو خبر ہے کہ میں کسی مسلمان کی بیوی ہوں یا جیساکہکتاب النکاحبابمعاشرۃ النکاحمیں گزرا کہ جب کسی مؤمن سے اس کی بیوی لڑتی جھگڑتی ہے تو اس کی بیوی یعنی جنتی حور پکارتی ہے کہ اس سے مت لڑ یہ تیرے پاس مہمان ہے، میرے پاس آنے والا ہے۔لہذا یہاںمن کان لناکہنا ایک قاعدہ بیان کرنے کے لیے ہے نہ کہ حور کی بے علمی کی بناء پر۔یہ بھی خیال رہے کہ حوروں کا یہ کلام انسانوں کو سنانے کے لیے ہے اور واقعی وہ کلام ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معرفت سن لیا جیسے فرشتوں اور رب تعالٰی کے فرمان ہم کو سنانے کے لیے ہیں اور واقعی ہم نے وہ سب حضور صلی الله علیہ و سلم کے ذریعہ سن لیئے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات برزخ کبری ہے،اس عالم اجسام اور عالم انوار وغیرہ کے درمیان حوروں کو اپنے خاوندوں کی خبر ہے مگر خاوندوں کو ان کی خبر نہیں کہ کونسی حور میرے نکاح میں ہوگی،ہم کو تو ابھی اپنے خاتمہ کی بھی خبر نہیں،حوریں قیامت کے بعد عطا ہوں گی۔حضرت آدم علیہ السلام کچھ عرصہ جنت میں رہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم معراج میں جنت میں تشریف لے گئے،حضرت ادریس علیہ السلام جنت میں رہتے ہیں مگر یہ کوئی حضرات حوروں سے تعلق نہیں رکھتے بعد قیامت ان سے تعلق ہوگا،یہ حضرات اور شہداء جنت کے پھل فروٹ وغیرہ کھاتے رہے اور کھارہے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5649