Main Icon

باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5630

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مِمَّ خُلِقَ الْخَلْقُ؟ قَالَ: "مِنَ الْمَاءِ" قُلْنَا: الْجَنَّةُ مَا بِنَاؤُهَا؟ قَالَ: "لَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ وَلَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ، وَمِلَاطُهَا الْمِسْكُ الأَذْفَرُ وَحَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوتُ، وَتُرْبَتُهَا الزَّعْفَرَانُ، مَنْ يَدْخُلُهَا يَنْعَمُ وَلَا يَبْأَسُ، وَيَخْلُدُ وَلَا يَمُوتُ، وَلَا يَبْلَى ثِيَابُهُمْ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُمْ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.

عن أبي هريرة قال: قلت: يا رسول الله! مم خلق الخلق؟ قال: "من الماء" قلنا: الجنة ما بناؤها؟ قال: "لبنة من ذهب ولبنة من فضة، وملاطها المسك الأذفر وحصباؤها اللؤلؤ والياقوت، وتربتها الزعفران، من يدخلها ينعم ولا يبأس، ويخلد ولا يموت، ولا يبلى ثيابهم، ولا يفنى شبابهم". رواه أحمد والترمذي والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله مخلوق کس چیز سے پیدا کی گئی فرمایا پانی سے ۱∞؎ہم نے عرض کیا جنت کا میڑیل کیا ہے۲؎فرمایا ایک اینٹ سونے کی ایک اینٹ چاندی کی اور اس کا گارا خالص مشک کا ہے اور اس کی بجری موتی اور یاقوت ہے اس کی مٹی زعفران ہے۳؎جو وہاں داخل ہوگا خوش رہے گا غمگین نہ ہوگا ہمیشہ رہے گا کبھی نہ مرے گا،ان کے کپڑے گلیں گے نہیں اس کی جوانی فنا نہ ہوگی ۴؎(احمد،ترمذی،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎اگر خلق سے مراد جاندار مخلوق ہے،انسان و جانور وغیرہ تو پانی سے مراد نطفہ ہے،اس صورت میں حضرت آدم،حوا، عیسیٰ علیہ السلام اور وہ کیڑے مکوڑے اس حکم سے علیحدہ ہیں جو اولًا سر یا چار پائی یا برسات کے موسم میں پیدا ہوتے ہیں کہ ان کی پیدائش نطفہ سے نہیں۔اس معنی کی تائید قرآن کریم کی اس آیت سے ہے"وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ کُلَّ شَیۡءٍ حَیٍّ"ہم نے ہر جاندار چیز کو نطفہ سے پیدا فرمایا۔اور اگر خلق سے مراد عالم اجسام ہے توماءسے مراد یہ ہی پانی ہے۔الله تعالٰی نے پہلے ایک جوہر پیدا فرمایا اس پر نظر ڈالی تو ہیبت سے وہ جوہر پگھل گیا پانی بن گیا،اس پانی میں قدرتی گرمی پیدا کی گئی اس سے ہوا بنی کہ پانی گرمی پاکر ہوا بن جاتا ہے،ہوا نے پانی کو حرکت دی اس سے جھاگ پیدا ہوئے وہ جمادیئے گئے تو زمین بنی گویا زمین پانی کا جما ہوا جھاگ ہے،یہ پانی اور زیادہ گرم کیا گیا تو اس سے آگ بنی آگ سے دھواں پیدا ہوا وہ جم کر آسمان بنے،توریت شریف کے پہلے دفتر میں پیدائش کی یہ ہی ترتیب فرمائی گئی ہے،زمین پانی پر ٹھہر نہ سکی ہلتی تھی تو اس پر پہاڑ کے لنگر ڈالے گئے جس سے اسے قرار ہوا۔(اشعۃ اللمعات و لمعات)۲؎جس سامان سے مکان بناتے ہیں اسے انگریزی اردو میں میڑیل کہتے ہیں جیسے اینٹ گارا چونا،لوہا سیمنٹ وغیرہ یعنی یا رسول الله جنت کی تعمیرکس سامان سے ہوئی۔معلوم ہوا کہ حضرات صحابہ کا ایمان تھا کہ حضور صلی الله علیہ و سلم ہر چیز کی حقیقت سے واقف ہیں،حضور صلی الله علیہ وسلم سے ایسے باریک سوال کرتے ہیں اور سرکار یہ نہیں فرماتے کہ اچھا جبرئیل امین آئیں گے تو ان سے پوچھ لیں گے یہ باتیں تو حضرت جبرئیل کو بھی معلوم نہ تھیں جو حضور بیان فرمارہے ہیں۔مولانا فرماتے ہیں شعر
اے ہزاراں جبرئیل اندر بشر بحر حق سوئے غریباں یک نظر
۳
؎دیکھو یہ ہے اس غیب داں صلی الله علیہ و سلم کا علم کہ جنت کی ساری حقیقت بیان فرمادی جس کی نگاہ سے جنت کی حقیقت نہیں چھپی انہیں سب کی حقیقت بھی معلوم ہے۔خیال رہے سونا پیلا ہوتا ہے چاندی سفید،جو دیوار ان اینٹوں سے بنے وہ کیسی خوشنما ہوگی،پھر زعفران پیلا ہوتا ہے مشک سیاہ،جو مٹی اس سے مخلوط ہو وہ کیسی حسین اور کیسی خوشبودار ہوگی پھر موتی سفید چمکیلے ہوتے ہیں یاقوت رنگ برنگے جو بجری ان سے مخلوط ہو وہ کیسی خوبصورت اور قیمتی ہوگی،پھر وہاں کے درخت گہرے رنگ کے سبز،ان رنگتوں کے ملنے سے جو حسن پیدا ہوا ہے وہ بغیر دیکھے سمجھ میں نہیں آسکتاان شاءاللهدیکھ کر ہی سمجھیں گے اورسمجھائیں گے،خدا تعالٰی اس قال کو حال کردے۔۴؎یعنی جنت میں رنج غم،تکلیف،بیماریاں موت،بڑھاپا،کپڑے میلے ہونا وغیرہ کوئی چیز نہ ہوگی۔مرقات نے فرمایا کہ کپڑے فرماکر سارا سامان مراد لیا گیا ہے کہ وہاں نہ کپڑے میلے ہوں نہ پھٹیں نہ کوئی سامان ٹوٹے پھوٹے نہ مرمت کرایا جاوے،دیکھ لو چاند سورج کی مرمت کون کرتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5630