Main Icon

باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5620

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ، وَلَا يَتْفُلُونَ وَلَا يَبُولُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَمتَخِطُونَ". قَالُوا: فَمَا بَالُ الطَّعَامِ؟ قَالَ: "جُشَاءٌ وَرَشْحٌ كَرَشْحِ الْمِسْكِ، يُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّحْمِيدَ كَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن جابر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن أهل الجنة يأكلون فيها ويشربون، ولا يتفلون ولا يبولون ولا يتغوطون ولا يمتخطون". قالوا: فما بال الطعام؟ قال: "جشاء ورشح كرشح المسك، يلهمون التسبيح والتحميد كما تلهمون النفس". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جنت میں کھائیں گے پئیں گے ۱∞؎اور نہ تو تھوکیں گے نہ پیشاب پاخانہ کریں گے اور نہ ناک جھاڑیں گے ۲؎صحابہ نے عرض کیا تو ان کے کھانے کا کیا حال ہوگا۳؎فرمایا ڈکار اور مشک کی طرح پسینہ۴؎تسبیح و حمد الٰہی ان کے دل میں ڈالی جاوے گی جیسے تم سانس لیے جاتے ہو۵؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎جنتی جنت میں پرندوں کے گوشت اور اعلی درجہ کے بے شمار پھل کھائیں گے اور دودھ شہد،پانی شراب طہور پئیں گے یہ کھانا پینا بھوک سے نہ ہوگا صرف لذت کے لیے ہوگا کہ وہاں نہ بھوک ہوگی نہ پیاس۔۲؎یعنی جنتیوں کے کھانے پینے کے لیے بہت نعمتیں ہوں گی مگر بدن سے اس کے خارج کرنے کے لیے وہ ذریعہ نہ ہوں گے جو دنیا میں ہوتے ہیں پیشاب پاخانہ،تھوک،رینٹ وغیرہ۔۳؎یعنی یارسول الله پھر کھانے کا فضلہ بدن سے کیسے خارج ہوگا،اگر خارج نہ ہوگا تو وہاں تندرستی کیسے قائم رہے گی، نہایت نفیس سوال ہے۔۴؎یعنی کھانا تو ڈکار سے ہضم ہوگا اور پانی وغیرہ پسینہ کے ذریعہ خارج ہوگا۔خیال رہے کہ جنت میں دنیا کی سی ڈکار نہ ہوگی جس کی حدیث شریف میں برائی آئی ہےاقسر نا حشاءكمگر وہ آواز کسی قدر اس میں بدبو بلکہ وہ ڈکار ہی اور قسم کی ہوگی،نیز وہاں پسینہ دنیا کا سا نہ ہوگا جو گرمی کی وجہ سے بدبودار تکلیف دہ ہوتا ہے وہ پسینہ اور ہی طرح کا ہوگا نہایت خوشبودار آرام دہ۔۵؎سبحان الله!کس نفیس طریقہ سے سمجھایا ہے کہ جیسے دنیا میں تم سانس لیتے تھکتے نہیں ایسے ہی وہاں تسبیح و تہلیل کرتے تھکوگے نہیں،جیسے کہ یہاں سانس ہر وقت ہر حال میں جاری رہتی ہے ایسے ہی وہاں جنت میں تسبیح و تہلیل ہر حال ہر وقت میں جاری ہوگی،جیسے یہاں سانس کسی کام سے روکتی نہیں ایسے ہی وہاں ذکر الله کسی کام سے روکے گا نہیں۔بعض عارفین پاس انفاس کرتے ہیں یعنی ذکر الله ان کی سانس میں جاری ہوجاتا ہے جو سوتے جاگتے کھاتے پیتے جاری رہتا ہے وہ لوگ ایک اعتبار سے دنیا میں ہی جنت میں ہیں۔مرقات نے فرمایا کہ"وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانِ"دو جنتوں سے مراد ایک دنیاوی جنت ہے دوسری اخروی جنت،دنیاوی جنت ذکر الٰہی ہے اخروی جنت اس کا نتیجہ ہے،ارشادباری ہے"اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیۡ نَعِیۡمٍ"نیک لوگ دنیا میں ہی جنت میں ہیں یعنی ذکر الله کی جنت میں"وَ اِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیۡ جَحِیۡمٍ"کفار دنیا میں ہی دوزخ میں ہیں یعنی غفلت کی دوزخ میں جس کا نتیجہ آخرت کی دوزخ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5620