Main Icon

باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3139

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "فِي التَّوْرَاةِ مَكْتُوبٌ: مَن بَلَغَتِ ابْنَتُهُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَة وَلَمْ يُزَوِّجْهَا، فَأَصَابَتْ إِثْمًا فَإِثْمُ ذَلِكَ عَلَيْهِ". رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعن عمر بن الخطاب وأنس بن مالك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "في التوراة مكتوب: من بلغت ابنته اثنتي عشرة سنة ولم يزوجها، فأصابت إثما فإثم ذلك عليه". رواهما البيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب اور انس ابن مالک سے وہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا توریت میں لکھا ہے ۱؎کہ جس کی لڑکی بارہ برس کی ہوجائے اور وہ اس کا نکاح نہ کرے۲؎پھر وہ کوئی گناہ کر بیٹھے تو اس کا گناہ اس کے باپ پر ہے۳؎یہ دونوں حدیثیں بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیں۔

شرح حدیث

۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم توریت و انجیل سے ان کے احکام سے خبردار ہیں،اگرچہ ان کتب کی زبان عبرانی ہے اور حضور عربی، کیوں نہ واقف ہوں حضور تو جانوروں فرشتوں کی زبانیں بھی جان لیتے ہیں۔
۲
؎یعنی کفو ملتا ہو اور یہ شخص نکاح کردینے پر قادر ہو پھر بھی محض دولتمند کی تلاش میں لاپرواہی سے نکاح نہ کرے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رب توفیق دے تو لڑکی کا نکاح بارہ سال کی عمر سے پہلے ہی کردے اب تو پچیس تیس سال تک کی لڑکیاں گھروں میں بیٹھی رہتی ہیں،نہ بی اے لاکھ پتی ملتا ہے نہ نکاح ہوتا ہے رب تعالٰی مسلمانوں کی آنکھیں کھولے۔
۳
؎یعنی اس کا گناہ باپ پر بھی ہے کیونکہ وہ اس کا سبب بنا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3139