Main Icon

باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3132

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الْبَغَايَا اللَّاتِي يُنْكِحنَ أَنْفُسَهُنَّ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ" وَالأَصَحُّ أَنَّهُ مَوْقُوفٌ عَلَى ابْنِ عَبَّاس. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "البغايا اللاتي ينكحن أنفسهن بغير بينة" والأصح أنه موقوف على ابن عباس. رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ عورتیں زانیہ ہیں جو اپنا نکاح بغیر گواہوں کے کر لیں ۱؎اور زیادہ درست یہ ہے کہ یہ حدیث حضرت ابن عباس پر موقوف ہے ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎بغایا باغیۃکی جمع ہے اورباغیہ بغاءسے بنا بمعنی زنا یعنی جو عورت کسی سے تنہائی میں بغیر گواہ نکاح کرلے تو یہ نکاح درست نہیں اور صحبت زنا کی طرح حرام ہوگی کیونکہ نکاح کے لیے دو گواہ شرط ہیں اسی پر تمام صحابہ و تابعین بلکہ تمام مسلمین کا اتفاق ہے کہ بغیر گواہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا۔(مرقات و لمعات)
۲
؎یعنی حضرت عبداللہ ابن عباس کا اپنا قول ہے مگر ایسی حدیث موقوف بھی مرفوع کے حکم میں ہوتی ہے کہ یہ بات صحابی اپنے اجتہاد سے نہیں فرماتے بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر فرماتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3132