Main Icon

باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3128

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ: أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ فَكَرِهَتْ ذَلِكَ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ نِكَاحَهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ مَاجَه: "نِكَاحَ أَبِيهَا"،

وعن خنساء بنت خذام: أن أباها زوجها وهي ثيب فكرهت ذلك، فأتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فرد نكاحها. رواه البخاري، وفي رواية ابن ماجه: "نكاح أبيها"،

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت خنساء بنت خذام ۱؎سے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کردیا جب کہ وہ شادی شدہ تھی انہوں نے یہ نکاح ناپسند کیا ۲؎تو وہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں آپ نے اس کا نکاح رد کردیا۳؎(بخاری)اور ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ اس کے باپ کا کیا ہوا نکاح رد کیا۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام خنساء بنت خذام ابن خالد ہے،انصاریہ ہیں،اسدیہ ہیں،صحابیہ ہیں۔حق یہ ہے کہ ان کے والد کا نام خذام نقطہ والی ذال سے ہے،نہ کہ دال سے۔
۲
؎یعنی وہ بالغہ تھیں پہلے ان کا نکاح ہوچکا تھا،بیوہ یا مطلقہ تھیں۔اب والد نے ان کی ناپسندیدگی کے باوجود نکاح کردیا۔
۳
؎خیال رہے کہ مذہب حنفی میں بالغہ پر ولی کو جبر کا حق نہیں خواہ کنواری ہو یا بیوہ اور مذہب شافعی میں ثیبہ پر ولی کو حق جبر نہیں،خواہ بالغہ ہو یا نابالغہ ہمارے ہاں اس رد نکاح کی وجہ لڑکی کا بلوغ تھا اور شوافع کے ہاں اس کا ثیبہ ہونا لہذا یہ حدیث نہ ہمارے خلاف ہے نہ شوافع کے چونکہ حضرت خنساء نکاح کا انکار کرچکی تھیں اس لیے حضور انور نے نکاح رد فرما دیا ورنہ اگر یہ خاموش رہی ہوتیں تو انہیں اختیار ملتا کہ نکاح جائز رکھیں یا رد کردیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3128