Main Icon

باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3873

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ نَجيحٍ السُّلَميِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَهُوَ لَهٗ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ، وَمَنْ رَمٰى بِسَهْمٍ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَهُوَ لَهٗ عِدْلُ مُحَرَّرٍ، وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الإِسْلَامِ كَانَتْ لَهٗ نُوْرًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِيْ "شُعَبِ الإِيْمَانِ" وَرَوٰى أَبُوْ دَاوُدَ الْفَصْلَ الْاَوَّلَ، وَالنَّسَائِيُّ الأَوَّلَ وَالثَّانِيَ، وَالتِّرْمِذِيُّ الثَّانِيَ وَالثَّالِثَ وَفِيْ رِوَايَتِهِمَا: "مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ" بَدَلَ "فِي الْإِسْلَامِ".

وعن أبي نجيح السلمي قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من بلغ بسهم في سبيل الله فهو له درجة في الجنة، ومن رمى بسهم في سبيل الله فهو له عدل محرر، ومن شاب شيبة في الإسلام كانت له نورا يوم القيامة". رواه البيهقي في "شعب الإيمان" وروى أبو داود الفصل الاول، والنسائي الأول والثاني، والترمذي الثاني والثالث وفي روايتهما: "من شاب شيبة في سبيل الله" بدل "في الإسلام".

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابونجیحسلمی سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا جس نے اللہ کی راہ میں تیر پہنچایا تو وہ اس کے لیے جنت میں ایک درجہ ہے ۲؎اور جس نے اللہ کی راہ میں تیر چلایا تو اس کے لیے آزاد کیے ہوئے کے برابر ہے ۳؎اور جو اسلام میں بوڑھا ہوا تو اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا۴؎بیہقی شعب الایمان اور ابوداؤد نے پہلی فصل روایت کی ۵؎اور نسائی نے پہلی اور دوسری ۶؎اور ترمذی نے دوسری اور تیسری ۷؎اور ان بیہقی اور ترمذی کی روایات میں۸؎بجائےفی الاسلامکے یوں ہے کہ جو اللہ کی راہ میں جوان ہوا ۹؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام عمرو ابن عتبہ ہے،چوتھے مسلمان ہیں،اسلام لاکر اپنی قوم بنی سلیم میں لوٹ گئے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے فرما دیا تھا کہ جب تم کو ہماری ہجرت کی خبر ملے تو ہمارے پاس آجانا۔چنانچہ آپ اپنی قوم ہی میں رہے،فتح خیبر کے بعد مدینہ منورہ پہنچے اور مدینہ پاک ہی میں مقیم رہے،حضور کی بارگاہ میں مقبول تھے، آپ کے بقیہ حالات پہلے بیان کیے جاچکے ہیں۔
۲
؎یعنی جو شخص کفار پر صرف تیر پھینک دے خواہ لگے یا نہ لگے تو بھی اسے غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا۔معلوم ہوا کہ تیر پھینکنے سے تیر مارنا افضل ہے۔
۳
؎یعنی جو مسلمان ہوکر جئے گھر میں یامیدان جہاد میں یعنی جوانی بڑھاپا اسلام میں گزرے تو یہ نور حاصل ہونے کا ذریعہ ہے۔معلوم ہوا کہ پرانا مسلمان نو مسلم سے اس جہت سے افضل ہے۔اس حدیث کی بنا پر بعض علماء نے فرمایا کہ سر داڑھی سے سفید بال نہ اکھیڑے کہ یہ نور ہے۔ایک دفعہ بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ نے آئینہ دیکھا اپنے سر اور داڑھی میں سفید بال دیکھ کر فرمایاظھر الشیب ولم یذھب العیبیعنی شیب(بڑھاپا)تو آگیا مگر عیب نہیں گئے۔(مرقات)
۵
؎یعنی حدیث کا پہلا فقرہدرجۃ فی الجنۃتک نقل فرمایا۔
۳
؎یعنی نسائی نے پہلا جملہفی الجنۃتک بھی روایت کیا اور تیسرا جملہمن شاب شیبۃًروایت فرمایا،دوسرا جملہ روایت نہ کیاومن رمیالخ۔
۴
؎یعنی ترمذی نے پہلا جملہ روایت نہ کیامن بلغباقی دوفقرے روایت فرمائے۔
۵
؎خیال رہے کہروایتھماکی ضمیر ترمذی و نسائی کی طرف نہیں لوٹ رہی ہے کیونکہ اس نے تیسرا فقرہ روایت ہی نہیں کیا اور یہ مضمون تیسرے فقرے کا ہے۔
۶
؎یعنی بیہقی کی ایک روایت میں تو تیسرے فقرے میںفی الاسلامہے اور دوسری روایت میں بجائےفی الاسلامکےفی سبیل اللهہے لہذا یہاں یہ اعتراض نہیں کہ ابھی تو صاحبِ مشکوۃ بحوالہ بیہقیفی الاسلامروایت کرچکے ہیں اب بیہقی کی روایت سے ہیفی سبیل اللهفرمارہے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3873