Main Icon

باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3880

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُتْبَةَ اِبْنِ عَبْدٍ السُّلميِّ أَنَّهٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "لَا تَقُصُّوْا نَوَاصِيَ الْخَيْلِ وَلَا مَعَارِفَهَا وَلَا أَذْنَابَهَا، فَإِنَّ أَذْنَابَهَا مَذَابُّهَا، وَمَعَارِفَهَا دِفاؤُهَا، وَنَوَاصِيْهَا مَعْقُوْدٌ فِيْهَا الْخَيْرُ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن عتبة ابن عبد السلمي أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "لا تقصوا نواصي الخيل ولا معارفها ولا أذنابها، فإن أذنابها مذابها، ومعارفها دفاؤها، ونواصيها معقود فيها الخير". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عتبہ ابن عبدسلمی سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ نہ تو گھوڑے کی پیشانی کے بال کاٹو ۱؎نہ گردن کے بال اور نہ ان کی دم کیونکہ ان کی دم ان کے مورچھل(پنکھے)ہیں ۲؎اور ان کی گردن کے بال ان کے کمبل ہیں۳؎اور ان کی پیشانی کے بالوں میں خیر وابستہ ہے ۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎لاتقصوا قصسے بنا بمعنی قینچی یا چاقو سے کاٹنا یعنی گھوڑے کی گردن اور پیشانی کے بال رہنے دو انہیں نہ کاٹو اس حکم کی وجہ آگے ارشاد ہورہی ہے۔
۲
؎جن کے ذریعہ گھوڑے اپنے جسم سے مکھی مچھر اڑاتے ہیں،دم کی حرکت سے وہ تندرست بھی رہتے ہیں اس سے حسین بھی معلوم ہوتے ہیں۔
۳
؎جن کے ذریعہ ان کے جسم گرم رہتے ہیں اور اس گرمی سے تندرست رہتے ہیں اور اس گرمی سے ان کی تندرستی قائم رہتی ہے۔دفاءوہ کمبل جسے اوڑھا کر کسی کو گرمی پہنچائی جائے۔(مرقات وغیرہ )
۴
؎معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر دینی و دنیاوی چیز کا علم بخشا ہے،دیکھو دم کا مورچھل ہونا،گردن کے بالوں کا کمبل ہونا یہ دنیاوی چیزیں ہیں اور پیشانی کے بالوں میں بھلائی ہونا یہ دینی چیز ہے حضور کو دونوں معلوم ہیں،یونہی گھوڑے کے حالات کا علم ان ہی لوگوں کو ہوتا ہے جنہیں اس فن میں مہارت ہو آج لوگ بہت محنت سے گھوڑوں کے ماہر بنتے ہیں رب تعالٰی نے سب کچھ خود ہی حضور کو سکھادیا ہے۔حضرات انبیاء کرام کے علوم صرف دین سے محدود نہیں ہوتے دنیا و دین ہر ایک پر حاوی ہوتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3880