Main Icon

باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3878

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ وَهَبٍ الْجُشَمِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "عَلَيْكُمْ بِكُلِّ كُمَيْتٍ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ، أَوْ أَشْقَرَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ، أَوْ أَدْهَمَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن أبي وهب الجشمي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "عليكم بكل كميت أغر محجل، أو أشقر أغر محجل، أو أدهم أغر محجل". رواه أبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو وہب جشمی سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے تم اختیار کرو ہر سرخ پنج کلیان سفید پیشانی والا یا صاف سرخ پنج کلیان ۲؎یا کالا پنج کلیان ۳؎(ابوداؤد، نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،آپ کی کنیت ہی نام ہے،جشم ابن معاویہ کی اولاد میں ہیں اس لیے آپ کو جشمی کہا جاتا ہے۔
۲
؎تیز سرخ گھوڑے کو کمیت کہتے ہیں اور ہلکے سرخ کواشقر۔اغرکے معنی ہیں چمکدار،اب سفید پیشانی والے گھوڑے کواغرکہتے ہیں کہ اس کی پیشانی چمکتی ہے۔
۳
؎خلاصہ یہ ہے کہ سب سے بہتر تو وہ گھوڑا ہے جس کا رنگ تیز سرخ ہو پیشانی سفید چمکدار ہاتھ پاؤں سفید،پھر وہ گھوڑا جس کا رنگ ہلکاسرخ ہوپیشانی چمکدار ہاتھ پاؤں سفید،پھر وہ گھوڑا جس کا رنگ سیاہ ہو پیشانی چمکیلی ہاتھ پاؤں سفید۔خیال رہے کہ پچھلی حدیث میںادھمیعنی سیاہ کو کمیت یعنی سرخ پر مقدم رکھا گیا تھا یہاں اس کے برعکس ہے کہ سرخ کو سیاہ پر مقدم فرمایا وہاں وہ کالا مراد تھا جو اقرع بھی ہو ارثم بھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3878