Main Icon

باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3885

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ هُوْدِ ابْنِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ جدِّهٖ مَزِيْدَةَ قَالَ: دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلٰى سَيْفِهٖ ذَهَبٌ وَفِضَّةٌ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ.

وعن هود ابن عبد الله بن سعد عن جده مزيدة قال: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الفتح وعلى سيفه ذهب وفضة. رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ہود ابن عبداللہ ابن سعد سے وہ اپنے دادا مزیدہ سے راوی ۱؎فرماتے ہیں تشریف لائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فتح کے دن حالانکہ آپ کی تلوار پر سونا اور چاندی تھے ۲؎(ترمذی )اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎ھود ھ کے پیش واؤ کے سکون سے ہے حضرت ہود نبی کے نام پر نام ہے،بعض نسخوں میں ہوذہ ذال کے ساتھ ہے یہ صحیح نہیں مزیدہ بروزن مسعدہ حضرت ہود کے نانا ہیں صحابی ہیں اور ہود تابعی ہیں بعض نے مزیدہ بروزنسبعیہکہا۔(مرقات)
۲
؎یعنی جب حضور انور فتح مکہ کے دن مکہ معظمہ میں داخل ہوئے تو آپ کی تلوار میں سونے چاندی کا زیور تھا۔اسی حدیث کی بنیاد پر بعض لوگوں نے تلوار میں سونے کا زیوربھی جائز فرمایا مگر یہ درست نہیں اور یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔حق یہ ہے کہ تلوار میں سونے کا استعمال حرام ہے۔(اشعہ و مرقات)استیعاب میں فرمایا کہ یہ حدیث مزیدہ کی اسناد قوی نہیں بہرحال اس سے استدلال درست نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3885