Main Icon

باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3877

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ قَتَادَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "خَيْرُ الْخَيْلِ الأَدْهَمُ الأَقْرَحُ الأَرْثَمُ، ثُمَّ الأَقْرَحُ الْمُحَجَّلُ طُلُقُ الْيَمِيْنِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَدْهَمَ فَكُمَيْتٌ عَلٰى هٰذِهِ الشِّيَةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن أبي قتادة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "خير الخيل الأدهم الأقرح الأرثم، ثم الأقرح المحجل طلق اليمين، فإن لم يكن أدهم فكميت على هذه الشية". رواه الترمذي والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا بہترین گھوڑا سیاہ رنگ کا ہے سفید پیشانی والا ناک سفید والا ۱؎پھر سفید پیشانی والا پانچ کلیان،داہنا پاؤں خالی پھر اگر کالا نہ ہو تو اس صفت کا سرخ رنگ والا۔(ترمذی،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎ادھمتیز سیاہ،اقرحوہ گھوڑا جس کی پیشانی پر کچھ سفیدی ہو،ارثموہ گھوڑا جس کی ناک یا اوپری ہونٹ سفید ہو،جس گھوڑے میں یہ تین وصف جمع ہوں وہ بہت ہی اعلیٰ درجہ کا ہے۔غالبًا ایسا گھوڑا طاقتور بہادر اور وفادار ہوتا ہوگا یا کوئی اور وجہ ہوگی۔
۲
؎یعنی اگر گھوڑے میں یہ مذکورہ تین وصف نہ ہوں تو پھر ایسا ہوکہ پیشانی پر سفید داغ،پاؤں سفید اور سیدھا ہاتھ یا سیدھا پاؤں غیر سفید۔محجلوہ گھوڑا ہے جس کے ہاتھ پاؤں سفید ہوں کم یا زیادہ بشرطیکہ گھٹنوں تک سفیدی نہ ہو اس سے کم ہو۔
۳
؎یعنی اگر سیاہ گھوڑے میں یہ اوصاف جمع نہ ہوں تو سرخ گھوڑا ہی اچھا ہے جس میں مذکورہ اوصاف ہوں۔کمیتوہ گھوڑا ہے جس کی دم سیاہ باقی جسم سرخ ہو مگر سرخ کو بھی کمیت کہتے ہیں نر ہو یا مادہ یہ لفظ دونوں پر بولا جاتا ہے،شیہکے معنی رنگ بھی ہیں اور علامت بھی،رب تعالٰی فرماتاہے"لَاشِیَۃَ فِیۡہَا

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3877