Main Icon

باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3876

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عِمْرَانَ ابْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ" زَادَ يَحْيٰى فِيْ حَدِيْثِهٖ: "فِي الرِّهَانِ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ، وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مَعَ زِيَادَةٍ فِيْ بَابِ الْغَصَبِ.

وعن عمران ابن حصين قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا جلب ولا جنب" زاد يحيى في حديثه: "في الرهان". رواه أبو داود والنسائي، ورواه الترمذي مع زيادة في باب الغصب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہ تو ڈانٹ ڈپٹ ہے نہ ساتھ میں گھوڑا رکھنا ۲؎یحیی نے اپنی حدیث میں یہ زیادتی کی کہ گھوڑ دوڑ میں۲؎ابوداؤد،نسائی اور اسے ترمذی نے کچھ زیادتی کے ساتھباب الغصبمیں روایت کیا ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کے حالات بار بار بیان ہوچکے،آپ وہ ہی صحابی ہیں جو تیس سال بیمار رہے اور اس بیماری پر صابر و شاکر رہے،آپ کو فرشتے سلام کرتے تھے۔
۲
؎یعنی گھوڑ دوڑ میں دونوں فریق یا ایک فریق نہ جلب کرے نہ جنب یہ دونوں لفظکتاب الزکوۃمیں گزر چکے ہیں مگر وہاں ان کے اور معنی تھے یہاں جلب کے معنی ہیں اپنے گھوڑے کے ساتھ دوسرے گھوڑے پر سوار ہو کر دوڑنا اور شور مچا کر ڈانٹ کر اس دوڑ والے گھوڑے کو تیز کرنا۔اور جنب کے معنی ہیں اس دوڑنے والے گھوڑے کے ساتھ اور گھوڑا رکھنا اگر راہ میں وہ گھوڑا تھک جائے تو اس دوسرے کو بازی میں لگادیا جائے۔چاہیے یہ کہ دوڑ کی حالت میں گھوڑوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے وہ خود اپنی مرضی و طاقت سے دوڑیں جو آگے نکل جائے وہ جیتے۔لفظفی الرھانیا تو حضور انور کا ہی فرمان عالی ہے یا کسی راوی کا ہے جو حدیث کی تفسیر کے لیے بولا گیا یعنی جلب اور جنب گھوڑ دوڑ میں ممنوع ہے اور جگہ نہیں۔
۴
؎ترمذی نے وہاں زیادتی یہ فرمائی ہےولاشغار فی الاسلام ومن انتھب نھبۃ فلیس منایعنی اسلام میں شغار(مقابلہ کا نکاح بغیر مہر)نہیں اور جو لوٹ مچائے وہ ہم میں سے نہیں،یہ حدیث نسائی نے بھی بروایت حضرت انس نقل فرمائی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3876