- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- جہاد کا بیان
- حدیث نمبر 3872
باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3872
جہاد کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ عُقْبَةَ ابْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ: صَانِعَهٗ يَحْتَسِبُ فِيْ صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ، وَالرَّامِيَ بِهٖ، وَمُنَبِّلَهٗ، وَارْمُوْا وَارْكَبُوْا،وَأَنْ تَرْمُوْا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوْا، كُلُّ شَيْءٍ يَلْهُوْ بِهِ الرَّجُلُ بَاطِلٌ إِلَّا رَمْيَهُ بِقَوْسِهٖ، وَتَأْدِيْبَهُ فَرَسَهٗ، وَمُلَاعَبَتَهُ امْرَأَتَهٗ فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَزَادَ أَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ: "وَمَنْ تَرَكَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عَلِمَهٗ رَغْبَةً عَنْهُ فَإِنَّهٗ نِعْمَةٌ تَرَكَهَا" أَوْ قَالَ: "كَفَرَهَا".
عن عقبة ابن عامر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إن الله تعالى يدخل بالسهم الواحد ثلاثة نفر الجنة: صانعه يحتسب في صنعته الخير، والرامي به، ومنبله، وارموا واركبوا،وأن ترموا أحب إلي من أن تركبوا، كل شيء يلهو به الرجل باطل إلا رميه بقوسه، وتأديبه فرسه، وملاعبته امرأته فإنهن من الحق". رواه الترمذي وابن ماجه وزاد أبو داود والدارمي: "ومن ترك الرمي بعدما علمه رغبة عنه فإنه نعمة تركها" أو قال: "كفرها".
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالٰی ایک تیر کے ذریعہ تین شخصوں کو جنت میں داخل کرے گا ۱؎اس کے بنانے والے کو جب کہ اپنی صنعت میں بھلائی کی نیت کرے ۲؎اور تیر مارنے والے کو۳؎اور تیر دینے والے کو ۴؎تیر چلاؤ اور گھوڑے کی سواری کرو ۵؎اور تمہارا تیر چلانا گھوڑے کی سواری سے مجھے زیادہ پیارا ہے ۶؎ہر وہ چیز جس سے مرد کھیلے باطل ہے ۷؎سوا اس کے کہ اپنی کمان سے تیر اندازی کرنے کے اور اپنے گھوڑے کو سکھانے کے اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنے کے کہ یہ کھیل برحق ہیں ۸؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ابوداؤد، دارمی نے یہ اور زیادتی کی کہ جو تیر اندازی سیکھ کر بے رغبتی سے اسے چھوڑ دے تو اس نے ایک نعمت تھی جسے چھوڑ دیا فرمایا اس کی ناشکری کی ۹؎
شرح حدیث
۱∞؎یعنی مجاہد جو تیر کفار پر چلائے تو اس کے ایک تیر کی برکت سے تین مسلمان جنتی ہوجاتے ہیں۔یہاں تین شخصوں سے مراد تین مسلمان ہیں کیونکہ کافر جنت میں نہیں جاسکتا،آج جہاد میں امریکہ روس وغیرہ کے اسلحہ استعمال کیے جائیں تو امریکی عیسائی یا روسی وغیرہ اس سے جنتی نہیں ہوسکتے۔یہ اسلام کی قید اگلے مضمون سے بھی ظاہر ہے اور تیر سے مراد مرد مجاہد کا تیر ہے نہ کہ شکار کا تیر۔
۲؎یعنی کاریگر تیر ساز ثواب کا جب مستحق ہے جب کہ جہاد کی نیت سے تیر بنائے صرف تجارت کی نیت نہ ہو ہر جگہ نیت کو بڑا دخل ہے۔
۳؎جو راہ خدا میں تیر چلائے خواہ جہاد کی حالت میں یا تیر اندازی کی حالت میں کہ یہ مشق جہاد کی تیاری کے لیے ہے۔
۴؎منبلباب تفعیل سے ہے یا افعال سے اسم فاعل،نبلسے بنا بمعنی تیرانبالیانبیلکے معنی ہیں تیر دینا تیر انداز کو یا تیر چلاتے وقت یا نشانہ پر لگنے کے بعد اٹھا کر لانا،اسے دینا،تیر خواہ اس دینے والے کی ملکیت ہو یا تیر انداز کی یا کسی تیسرے کی۔اس سے معلوم ہوا کہ نیکی کی مدد کرنا بھی نیکی ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَتَعَاوَنُوۡا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی"اسی طرح گناہ کی مدد گناہ ہے،رب فرماتاہے:"وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ"۔
۵؎یعنی صر ف پیدل تیر اندازی کی مشق نہ کرو بلکہ سواری پر تیر چلانا بھی سیکھو یا یہ مطلب ہے کہ صرف تیر اندازی کی مشق نہ کرو بلکہ گھوڑ سواری بھی سیکھو اب اس زمانہ میں بندوق چلانا،نیزہ بازی کرنا،ہوائی جہاز رانی کی مشق،توپ سے گولہ اندازی سیکھنا بہ نیت جہاد اسی حکم میں ہے۔
۶؎شارحین فرماتے ہیں کہ یہاں گھوڑا سواری سے مراد نیزہ بازی ہے کہ اکثر گھوڑے پر سے دشمن کو نیزے مارے جاتے ہیں تو مطلب یہ ہوا کہ نیز ہ بازی سے تیر اندازی اچھی ہے کہ تیر اندازی جہاد میں زیادہ کام آتی ہے یا یہ مطلب ہے کہ گھوڑا سواری کی مشق سے تیر اندازی کی مشق مجھے زیادہ پیاری ہے کیونکہ گھوڑا سواری کبھی فخروریا پیدا کردیتی ہے۔(مرقات)
۷؎پہلے عرض کیا گیا ہے کہ لہو یعنی کھیل میں دو چیزیں ہوتی ہیں:غفلت اور لذت،غافل کرنے والا ہر عمل باطل ہے مگر لذت والا عمل تفصیل طلب ہے یہاں لہو سے مراد لذت والا عمل ہے۔
۸؎ان تینوں پر ثواب ملتا ہے کیونکہ تیر اندازی اور گھوڑے کی سواری سے دین و ایمان کی حفاظت ہے کہ یہ تیاری جہاد ہے اور اپنی بیوی سے کھیلنے چھیڑ کرنے میں مجاہد غازی پیدا کرتا بھی ہے اور اپنی اور اپنی بیوی کی عصمت و عفت کی حفاظت بھی کہ ایسی خوش طبعی کرنے والا جوڑاان شاءاﷲغیر عورت یا غیر مرد کی طرف رخ نہیں کرتا،بعض مردوں کی بیویاں خوبصورت ہوتی ہیں مگر وہ بدصورت رنڈیوں کی محبت میں گرفتار ہوتے ہیں،کیوں،اس لیے کہ ان کی بیویوں کو زینت و لہو نہیں آتا ورنہ رنڈی میں کیا چیز ہے جو اپنی حلال زوجہ کے پاس نہیں۔دل لبھانا ایسے موقعہ پر عبادت ہے،قربان جائیے اس تعلیم کے جس نے مسلمانوں کے گھر اور میدان جہاد دونوں بتادیئے یعنی جسے یہ فن آتے ہوں پھر وہ ان کی مشق چھوڑ دے جس کی وجہ سے وہ بھول جائے تو اس نے رب تعالٰی کی نعمت کی ناقدری کی اور وہ ناشکری کا مرتکب ہوا لہذا گنہگار ہوگا جیسے کوئی قرآن مجید حفظ کرکے بھول جائے سستی کی وجہ سے یوں ہی دینی علم حاصل کرکے بھول جانا بھی گناہ ہے جب کہ اپنی سستی کی وجہ سے ہو نعمت کی قدر چاہیے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3872