Main Icon

باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3887

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَتْ رَايَةُ نَبِيِّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَاءَ وَلِوَاؤُهٗ أَبْيَضَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن ابن عباس قال: كانت راية نبي الله صلى الله عليه وسلم سوداء ولواؤه أبيض. رواه الترمذي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ حضور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا بڑا جھندا سیاہ اور آپ کا چھوٹا جھنڈا سفید تھا ۱؎(ترمذی، ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎رایۃبنا ہےرایسےبمعنی دیکھنا دکھانا اورلواءبنا ہےلویسے بمعنی لپیٹنا یا گاڑنا،اصطلاح میں چھوٹے جھنڈے کو لواء کہتے ہیں جو کبھی خود لڑنے والے کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور بڑے جھنڈے کورایۃکہا جاتا ہے جو لشکر جرار کا نشان ہوتا ہے اور اس کے برعکس بھی استعمال ہوتا ہے یعنی چھوٹا جھنڈارایۃاور بڑا جھنڈالواءیہاں پہلے معنی میں حضور کے بڑے جھنڈے کا نامرایۃتھا اسے ام اطرب بھی کہتے تھے،اکثرلواءبڑے جھنڈے کو بولتے ہیںولواءالحمد یومئذٍ بیدیقیامت کے دن حمد کا جھنڈا ہمارے ہاتھ ہوگا،سیاہ سے مراد بھلسا ہے تیز سیاہ نہیں،دیکھو مرقات و اشعہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3887