Main Icon

باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3870

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِيْ أُضْمِرَتْ مِنَ الْحَفْيَاءِ وَأَمَدُهَا ثَنِيَّةُ الْوَدَاعِ، وَبَيْنَهُمَا سِتَّةُ أَمْيَالٍ، وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِيْ لَمْ تُضْمَرْ مِنَ الثِّنْيَةِ إِلٰى مَسْجِدِ بَنِيْ زُرَيْقٍ، وَبَيْنَهُمَا مِيْلٌ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عبد الله بن عمر: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سابق بين الخيل التي أضمرت من الحفياء وأمدها ثنية الوداع، وبينهما ستة أميال، وسابق بين الخيل التي لم تضمر من الثنية إلى مسجد بني زريق، وبينهما ميل. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدابن عمر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان گھوڑوں کے درمیان جن کا ضمار کیا گیا ہو ۱؎حفیا سے دوڑ کرائی اور اس کی انتہا ثنیہ وداع تھی ۱؎اور دو حدود کے درمیان چھ میل کا فاصلہ تھا ۲؎اور ان گھوڑوں کے درمیان جن کا ضمار نہیں کیا گیا ثنیہ سے مسجد بنی زریق تک دوڑائی کرائی ۴؎جن کے درمیان ایک میل کا فاصلہ تھا۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ضمار کی صورت یہ ہوتی ہے کہ گھوڑے کو مصالحے دے کر فربہ کیا جائے پھر اس کی خوراک کم کرکے کسی بند جگہ میں باندھ دیا جائے تو جھول وغیرہ اس پر کس دی جائے حتی کہ پسینہ اسے خوب چلے اور گھوڑا قدرے دبلہ ہو کہ اپنی اصلی حالت پر آ جائے ایسا گھوڑا بہت قوی ہوتا ہے اس عمل کو اضمار کہتے ہیں اور ایسے گھوڑے کو مضمر کہا جاتا ہے،اس کا مادہضمرہے یعنی بمعنی دبلا پن اور پیٹ کا پیٹھ سے لگ جانا ۔(مرقات وغیرہ)
۲
؎حفیایاحیفاح کے فتحہ سے مدینہ منورہ سے چند میل کے فاصلہ پر ایک جگہ کا نام ہے ثنیہ بمعنی پہاڑ کی گھاٹی اسے ثنیہ وداع اس لیے کہتے ہیں کہ اہل مدینہ اپنے مہمان کو یہاں تک پہنچانے جاتے تھے،یہاں سے اسے وداع یعنی رخصت کرتے تھے۔ فقیر نے اس جگہ کی زیارت کی ہے اب وہاں ایک مسجد بنی ہوئی ہے جسے مسجد وداع کہتے ہیں،اس کے متصل موقف سیارات یعنی لاریوں کا اڈا ہے اور لکڑی و کوئلہ کی ٹال ہے مشہور جگہ ہے۔
۳
؎عربی میل کہ تین میل کا ایک کوس ہوتا ہے تو چھ میل کے دو کوس پختہ ہوئے اب عرب شریف میں بجائے میل کے کیلو ہوتے ہیں ہمارے پاکستانی پونا میل کا ایک کیلو ہے۔
۴
؎بنی زریق ایک قبیلہ کا نام ہے جس کے مورث اعلیٰ کا نام زریق تھا اس قبیلہ کے محلہ میں یہ مسجد تھی اس لیے اسے مسجد بنی زریق کہتے تھے۔
۵
؎چونکہ ضمار کیا ہوا گھوڑا بہت قوی ہوتا ہے اس لیے اس کی ڈور کا فاصلہ زیادہ رکھا گیا اور بغیر ضمار والا گھوڑا اس سے ہلکا اس لیے اس کا فاصلہ تھوڑا تجویز ہوا۔اس سے معلوم ہوا کہ گھوڑدوڑ کرانا جائز بلکہ سنت ہے۔ بشرطیکہ اس پر مالی ہار جیت نہ ہو ورنہ پھر جوا ہے اور حرام ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3870