Main Icon

باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2541

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ مُلَبِّدًا يَقُولُ: «لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» . لَا يَزِيدُ عَلٰى هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عمر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يهل ملبدا يقول: «لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» . لا يزيد على هؤلاء الكلمات(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو بال چمٹائے تلبیہ کہتے سنا ۱؎کہ فرماتے تھے حاضر ہوں یا اللّٰه حاضر ہوں،حاضر ہوں ۲؎تیرا کوئی شریک نہیں حاضر ہوں،یقینًا حمد و نعت تیری ہے اور ملک تیرا ہے تیرا کوئی شریک نہیں ان کلمات پر زیادتی نہ فرماتے تھے ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یھل اھلالسے بنا بمعنی چیخنا،شورمچانا،لغوی معنی ہیں چاند دکھانا مگر چونکہ چاند دکھاتے وقت شور مچاتے ہیں کہ وہ ہے چاند اس لیے اب اس کے معنی ہیں چلانا۔ملبدتلبیدسے بنا بمعنی بال چپکانا کسی گوند وغیرہ سے تاکہ بال نہ اڑیں اور ان میں گردو غبار نہ بھرے، امام شافعی کے ہاں بحالت احرام تلبید جائز ہے،امام اعظم کے ہاں ممنوع کہ یہ سر ڈھکنے کے حکم میں ہے،یہ حدیث امام شافعی کی دلیل ہے،اما م اعظم کے ہاں یہ تلبید لغوی معنی میں ہے یعنی بالکل مطلقًا جمع کرلینا،انہیں پریشان نہ رکھنا۔
۲
؎لبیكکا ترجمہ ہے حاضر جناب،یہ لفظ کسی پکارنے والے کے جواب میں بولا جاتا ہے،پکارنے والے حضرات ابراہیم خلیل اللّٰه تھے کہ انہوں نے تعمیر کعبہ کے بعد چار آوازیں رب تعالٰی کے حکم سے دی تھیں"αعباد اللّٰه تعالوا الی بیت اللّٰہ" ∞اے اللّٰه کے بندو اللّٰه کے گھر کی طرف آؤ،حاجی احرام باندھ کر اس پکار کا جواب دیتا ہوا جاتا ہے کہ حاضر جناب حاضر جناب،بعض نے فرمایا کہ پکارنے والے حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم ہیں،بعض نے فرمایا کہ خود رب تعالٰی ہے مگر پہلی بات قوی ہے۔(مرقات)
۳
؎حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم اکثر اوقات تلبیہ میں ان الفاظ پر زیادتی نہ فرماتے تھے کبھی زیادتی بھی فرماتے تھے،امام طحاوی کے ہاں زیادتی کرنا مکروہ ہے اسی بنا پرمگر دوسرے اماموں کے ہاں زیادتی جائز بلکہ مستحب ہے۔چنانچہ صحابہ و تابعین تلبیہ یوں کہتے تھےلَبَّیْكَ وَ سَعَدَیْكَ وَالْخَیْرُ کُلَّہٗ فِی یَدَیْكَ وَالرُّغَبَاءُ اِلَیْكَ وَالْعَمَلُ لَكَ لَبَّیْكَاور بہت زیادتیاں فرماتے تھے جیساکہ کتب احادیث میں موجود ہے،ہاں منقولہ الفاظ سے کمی کرنا مکروہ ہے،مرد کو تلبیہ بلند آواز سے کہنا چاہیے اورعورت کو آہستہ آواز سے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2541