Main Icon

باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2554

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ: لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ فَيَقُولُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْلَكُمْ قَدٍْ قَدٍ» إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهٗ وَمَا مَلَكَ. يَقُولُونَ هٰذَا وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالبَيْتِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن ابن عباس قال: كان المشركون يقولون: لبيك لا شريك لك فيقول رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ويلكم قد قد» إلا شريكا هو لك تملكه وما ملك. يقولون هذا وهم يطوفون بالبيت. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ مشرکین کہتے تھے حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں تو رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم فرماتے تھے تمہیں خرابی ہو بس کرو بس کرو ۱؎وہ کہتے مگر تیرا ایک شریک ہے کہ تو اس کا اور اس کی ملک کا مالک ہے ۲؎یہ کہتے جاتے تھے اور بیتاللّٰهکا طواف کرتے تھے۔(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جب مشرکینلا شریك لكپر پہنچتے تو سرکار فرماتے بس اسی پر رہو آگے شرکیہ لفظ نہ بولو یعنیالا شریکاالخ نہ کہو،مگر وہ کب باز آتے تھے۔
۲
؎ایک شریک سے مراد ایک قسم کا شریک ہے اس سے وہ اپنے سارے بت مراد لیتے تھے،ان بتوں کو وہ خدا کا بندہ بھی مانتے تھے اور اس کا مملوک بھی،پھر خدا کی برابر و مثل بھی،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِذْ نُسَوِّیۡکُمۡ بِرَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ"گویا یہ بت ان کے عقیدے میں پارلیمنٹ کے ممبر تھے کہ رب تعالٰی ان کی مدد کے بغیر اکیلا دنیا کا انتظام فرماسکتا ہی نہ تھا اور بعض مشرکین فرشتوں کو رب کی بیٹیاں مانتے تھے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب وہ بتوں کو رب کا بندہ اور مملوک مانتے تھے تو مشرک کیوں تھے،کوئی مسلمان کسی نبی ولی کو الٰہی پارلیمنٹ کا نہ ممبر مانتا ہے نہ رب کی اولاد بلکہ کہتا ہےعبدہ ورسولہاس کی تحقیق ہماری کتاب"علم القرآن"ملاحظہ فرمائیے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2554