Main Icon

باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2549

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالإِهْلَالِ أَو التَّلبيَةِ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ

وعن خلاد بن السائب عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «أتاني جبريل فأمرني أن آمر أصحابي أن يرفعوا أصواتهم بالإهلال أو التلبية» . رواه مالك والترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت خلاد ابن سائب سے وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے میرے پاس جبریل آئے مجھے حکم پہنچایا کہ میں اپنے صحابہ کو حکم دوں ۱؎کہ احرام یا تلبیہ اونچی آواز سے کریں ۲؎(مالک،ترمذی،ابوداؤد،نسائی، ابن ماجہ،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ ترجمہ نہایت موزوں ہے کہ جبریل نے مجھے حکم پہنچایا خود حکم دیا نہیں بلکہ حکم الٰہی بطور قاصد پہنچایا کیونکہ حضرت جبرئیل حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے خادم خاص اور پیغام رساں ہیں،خدام حکم دے نہیں سکتے اور حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم اپنی امت کے نبی مطاع ہیں حضور انہیں حکم دیں گے اسی لیے جبرئیل امین خود صحابہ سے نہیں کہتے تھے کہ میں جبرئیل تمہیں یہ حکم دیتا ہوں،بلکہ حضور سے کہلواتے تھے۔
۲
؎شک راوی کو ہے کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نےاھلالفرمایا یا تلبیہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو شک نہیں ہے۔اصحاب سے مراد ساری امت کے مرد ہیں،عورتوں کو اونچی آوا زسے تلبیہ کہنا منع ہے،وہ اتنی پست آواز سے کہیں کہ خود اپنی آوا زسن سکیں،مرد بھی اتنی اونچی آواز نہ کریں کہ مشقت میں پڑھ جائیں بلکہ درمیانی اونچی آواز سے کہیں۔ (مرقات)یہ بلند آواز سنت ہے جس کا ثواب زیادہ ہے اگر پست آواز سے کہیں تو گنہگار نہیں ہاں ثواب کم ہوجائے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2549