Main Icon

باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2546

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: تَمَتَّعَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ بَدَأَ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عمر قال: تمتع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع بالعمرة إلى الحج بدأ فأهل بالعمرة ثم أهل بالحج. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حجۃ الوداع میں عمرہ کا حج کے ساتھ تمتع کیا ۱؎ابتداء عمرہ کا احرام باندھا پھر حج کا احرام باندھ لیا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں تمتع لغوی معنی میں ہے یعنی ایک سفر میں حج و عمرہ سے فائدہ اٹھانا،حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے عمرہ کا احرام باندھا،پھر عمرہ کرنے سے پہلے حج کا احرام باندھ لیا اور قران فرمالیا لہذا یہ حدیث عبداللّٰه مزنی رضی اللّٰہ عنہ کی اس حدیث کے خلاف نہیں کہ انہوں نے فرمایا میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو یوں تلبیہ فرماتے سنالَبَّیْكَ عُمْرَۃً وَ حَجًّا۔امام ابن حزم نے ایک مستقل کتاب اس بارے میں لکھی ہے کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے قران فرمایا۔خیال رہے کہ امام اعظم کے ہاں قران افضل ہے،امام شافعی کے ہاں افراد بہتر، امام احمد کے ہاں تمتع افضل،یہ اختلاف اس بنا پر ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کونسا حج کیا جن امام کے ہاں جس حج کا ثبوت ہوا انہوں نے اسی کوافضل کہا،ہمارے ہاں حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے قران کا ثبوت ہے لہذا وہ ہی افضل ہے،مذہب حنفی قوی ہے(از مرقات ولمعات)
۲
؎عمرہ کرنے سے پہلے ہی لہذا قران کیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2546