Main Icon

باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2552

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عِمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ تَلْبِيَتِهٖ سَأَلَ اللّٰهَ رِضْوَانَهٗ وَالْجَنَّةَ وَاسْتَعْفَاهُ بِرَحْمَتِهٖ مِنَ النَّارِ. رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ

وعن عمارة بن خزيمة بن ثابت عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان إذا فرغ من تلبيته سأل الله رضوانه والجنة واستعفاه برحمته من النار. رواه الشافعي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمارہ ابن خزیمہ ابن ثابت سے وہ اپنے والد سے ۱؎وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ جب تلبیہ سے فارغ ہوتے تو اللّٰه سے اس کی رضا اور جنت مانگتے اور اس کی رحمت کے وسیلہ سے آگ سے پناہ مانگتے تھے ۲؎(شافعی)

شرح حدیث

۱∞؎عمارہ تابعی ہیں ان کے والد خزیمہ ابن ثابت مشہور صحابی ہیں،انہی کی گواہی حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے دو گواہیوں کے برابر قرار دی تھی،آپ جنگ صفین میں حضر ت علی کے ساتھ تھے،اسی جنگ میں شہید ہوئے۔(مرقات)
۲
؎یعنی حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم تلبیہ کے الفاظ ادا فرما کر پھر یہ دعائیں آہستہ مانگتے تھے اسی لیے علماء فرماتےہیں کہ حاجی تلبیہ کہہ کر آہستہ آواز سے درود شریف پڑھے،پھر یہ دعائیں مانگے اور ہر بار تین دفعہ تلبیہ کہے مسلسل کہے جن میں دنیاوی بات کا فاصلہ نہ ہو۔ تلبیہ کہنے والے کو کوئی سلام بھی نہ کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2552