Main Icon

باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2545

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالحَجِّ وَأَهَلَّ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالحَجِّ فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَحَلَّ وَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِالحَجِّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَلَمْ يَحِلُّوا حَتّٰى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة قالت: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عام حجة الوداع فمنا من أهل بعمرة ومنا من أهل بحج وعمرة ومنا من أهل بالحج وأهل رسول الله صلى الله عليه وسلم بالحج فأما من أهل بعمرة فحل وأما من أهل بالحج أو جمع الحج والعمرة فلم يحلوا حتى كان يوم النحر (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں ہم رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے سال نکلے تو ہم میں بعض وہ تھے جنہوں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا ۱؎اور ہم میں بعض وہ تھے جنہوں نے حج و عمرہ کا احرام باندھا اور بعض وہ تھے جنہوں نے صرف حج کا احرام باندھا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حج کا احرام باندھا تھا ۲؎تو جس نے عمرہ کا احرام باندھا تھا وہ تو کھل گئے ۳؎لیکن جس نے حج کا احرام باندھا تھا یا حج و عمرہ جمع کیا تھا وہ دسویں تاریخ تک نہ کھلے ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎مرقات نےاَھَلَّکے معنی کئےلبَّییعنی،بعض لوگ تلبیہ میں حج کا نام لے رہے تھےاور بعض صرف عمرہ کا اور بعض حج و عمرہ دونوں کا مگر احرام عمومًا سب کا حج و عمرہ دونوں کا تھا یعنی قران کا اور ہوسکتا ہے کہاَھَلَّکے معنی احرام باندھنا ہوں یعنی بعض صحابہ نے صرف عمرہ کا احرام باندھا کیونکہ وہ حج اس سے پہلے سال کرچکے تھے یا انہوں نے تمتع کیا ہو۔
۲
؎خیال ر ہے کہ بعض راویوں نے حضور سے صرف عمرہ کی روایت کی ہے بعض نے صرف حج کی،بعض نے حج و عمرہ دونوں کی،حضرت ام المؤمنین نے یہاں صرف حج کی روایت کی،وجہ یہ ہے کہ حضور انور نے قرآن کیا تھا لہذا آپ تلبیہ میں کبھی صرف حج کا نام لیتے تھے کبھی صرف عمرہ کا اور کبھی حج و عمرہ دونوں کا جیساکہ قارن کو اختیار ہے،ہر راوی نے جو سنا اسی کی روایت کی لہذا احادیث میں تعارض نہیں لہذا اس حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضور انور نے افراد کیا تھا جیساکہ شوافع نے سمجھا اور نہ یہ امام اعظم کے خلاف ہے۔
۳
؎طواف و سعی کر کے عمرہ سے کھل گئے،پھر بعد کو حج کا احرام باندھا اس درمیان میں حلال رہے۔
۴
؎یعنی جن حضرات نے اول ہی سے حج و عمرہ کا احرام باندھا تھا وہ اور جنہوں نے صرف حج کا احرام باندھا تھا بعد میں عمرہ بھی شامل فی الاحرام کرلیا تھا وہ یہ دونوں قسم کے حضرات دسویں ذی الحجہ کو احرام سے فارغ ہوئے،جمرہ عقبہ کی رمی کرکے سوائے عورتوں کے تمام چیزیں انہیں حلال ہوگئیں اور طواف زیارت کر کے بیوی سے صحبت بھی حلال ہوگئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2545