Main Icon

باب : عیدین کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1446

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: شَهِدْتُ الصَّلَاةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَامَ مُتَّكِئًا عَلیٰ بِلَالٍ فَحَمَدَ اللهَ وَأَثْنٰى عَلَيْهِ وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ وَحَثَّهُمْ عَلیٰ طَاعَۃٍ وَمَضَى الَى النِّسَاءِ وَمَعَهٗ بِلَالٌ فَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللهِ وَ وَعَظَ هُنَّ وَ ذَكَرَهُنَّ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

وعن جابر قال: شهدت الصلاة مع النبي صلى الله عليه وسلم في يوم عيد فبدأ بالصلاة قبل الخطبة بغير أذان ولا إقامة فلما قضى الصلاة قام متكئا علی بلال فحمد الله وأثنى عليه ووعظ الناس وذكرهم وحثهم علی طاعۃ ومضى الى النساء ومعه بلال فأمرهن بتقوى الله و وعظ هن و ذكرهن. رواه النسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں عید کے دن نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں حاضر ہوا تو آپ نے خطبہ سے پہلے بغیراذان وتکبیرنماز شروع کی جب نماز پوری کرلی تو حضرت بلال پر ٹیک لگاکر کھڑے ہوگئے ۱∞؎اور الله کی حمدوثناءکی لوگوں کووعظ و نصیحت فرمائی اور انہیں رب کی اطاعت پر رغبت دی اور عورتوں کی طرف تشریف لے گئے آپ کے ساتھ بلال تھے۲؎انہیں الله سے ڈرنے کا حکم دیا اور انہیں وعظ و نصیحت فرمائی۔(نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر خطبہ پڑھا نہ لاٹھی لی،نہ تلوارکمان وغیرہ یہ بھی جائز ہے۔۲؎اگر یہ واقعہ پردہ آنے سے پہلے کا ہے تو حضرت بلال بے حجاب عورتوں کے سامنے رہے اور اگر پردے کے احکام آنے کے بعد کاہے تو ظاہر یہ ہے کہ حضرت بلال اس طرح کھڑے ہوئے کہ نہ عورتوں کو آپ دیکھ سکے نہ عورتیں آپ کوسرکار کے عورتوں میں تشریف لے جانے کی وجہ پہلے عرض کی جاچکی ہے کہ مردوں کے وعظ میں بشارتیں زیادہ تھیں اورعورتوں کے وعظ میں ڈرانا زیادہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1446