Main Icon

باب : عیدین کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1441

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ فِي الْعِيدَيْنِ فِي الْأُولٰى سَبْعًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ وَفِي الْآخِرَةِ خَمْسًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه والدَارمِيْ

وعن كثير بن عبد الله عن أبيه عن جده أن النبي صلى الله عليه وسلم كبر في العيدين في الأولى سبعا قبل القراءة وفي الآخرة خمسا قبل القراءة. رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت کثیر ابن عبد الله سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روای ۱∞؎کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے نماز عیدین کی پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے سات تکبیریں کہیں اور دوسری میں قرأت سے پہلے پانچ ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ، دارمی) ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎جن کا نام عمر ابن عوف مدنی ہے۔خیال رہے کہ کثیر ابن عبد الله نہایت ضعیف راوی ہیں،بعض محدثین نے فرمایا کہ یہ کچھ نہیں،بعض نے فرمایا کہ یہ منکر الحدیث ہے،اکثر آئمہ حدیث نے ان پرطعن کیاہے۔(اشعۃ اللمعات)
۲
؎علاوہ تکبیرتحریمہ اورتکبیر رکوع کے۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ عید کی تکبیریں پہلی رکعت میں سات ہیں دوسری میں پانچ اور دونوں رکعتوں میں قرأت سے پہلے ہیں،امام شافعی کا یہی مذہب ہے،ہمارے ہاں دونوں رکعتوں میں تکبیرعیدتین تین ہیں پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے اور دوسری میں قرأت کےبعد، ہماری دلیل آگے آرہی ہے۔۳؎تعجب ہے کہ ترمذی نے اس حدیث کو حسن کیسے کہہ دیا کہ کثیر ابن عبد الله کو تمام محدثین ضعیف کہتے ہیں۔چنانچہ ابوداؤد نے کہا یہ کذّاب ہے،امام شافعی نے فرمایا یہ جھوٹ کا ستون ہے،ابن حبان نے کہا کہ یہ جھوٹا ہے،ابو حاتم نے کہا کہ یہ متین نہیں،ابن عدی نے فرمایا کہ اس کی روایتوں پرکوئی دھیان نہیں دیتا۔ظاہر یہ ہے کہ حدیث ضعیف ہے،قابلِ استدلال نہیں۔(مرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1441