Main Icon

باب : عیدین کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1452

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْأَضْحٰى ويَوْمَ الْفِطْرِ فَيَبْدَأُ بِالصَّلَاةِ فَإِذَا صَلّٰى صَلَاتَهٗ قَامَ فَأَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي مُصَلَّاهُمْ فَإِنْ كَانَتْ لَهٗ حَاجَةٌ بِبَعْثِ ذَكَرَهٗ لِلنَّاسِ أَوْ كَانَتْ لَهٗ حَاجَةٌ بِغَيْرِ ذٰلِكَ أَمَرَهُمْ بِهَا وَكَانَ يَقُولُ: “تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا” . وَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ ثُمَّ يَنْصَرِفْ فَلمْ يَزَلْ كَذَلِك حَتّٰى كَانَ مَرْوَانُ ابْن الْحَكَمِ فَخَرَجْتُ مُخَاصِرًا مَرْوَانَ حَتّٰى أَتَيْنَا الْمُصَلّٰى فَإِذَا كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ قَدْ بَنٰى مِنْبَرًا مِنْ طِينٍ وَلَبِنٍ فَإِذَا مَرْوَانُ يُنَازِعُنِي يَدَهٗ كَأَنَّهٗ يَجُرُّنِي نَحْوَ الْمِنْبَرِ وَأَنَا أَجُرُّهٗ نَحْوَ الصَّلَاةِ فَلَمَّا رَأَيْتَ ذٰلِكَ مِنْهُ قُلْتُ: أَيْنَ الِابْتِدَاءُ بِالصَّلَاةِ؟ فَقَالَ: لَا يَا أَبَا سَعِيدٍ قَدْ تُرِكَ مَا تَعْلَمُ قُلْتُ: كَلَّا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ لَا تَأْتُوْنَ بِخَيْرٍ مِمَّا أَعْلَمُ ثُلَاثَ مِرَارٍ ثُمَّ انْصَرَفَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يخرج يوم الأضحى ويوم الفطر فيبدأ بالصلاة فإذا صلى صلاته قام فأقبل علی الناس وهم جلوس في مصلاهم فإن كانت له حاجة ببعث ذكره للناس أو كانت له حاجة بغير ذلك أمرهم بها وكان يقول: “تصدقوا تصدقوا تصدقوا” . وكان أكثر من يتصدق النساء ثم ينصرف فلم يزل كذلك حتى كان مروان ابن الحكم فخرجت مخاصرا مروان حتى أتينا المصلى فإذا كثير بن الصلت قد بنى منبرا من طين ولبن فإذا مروان ينازعني يده كأنه يجرني نحو المنبر وأنا أجره نحو الصلاة فلما رأيت ذلك منه قلت: أين الابتداء بالصلاة؟ فقال: لا يا أبا سعيد قد ترك ما تعلم قلت: كلا والذي نفسي بيده لا تأتون بخير مما أعلم ثلاث مرار ثم انصرف. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم عید کے دن تشریف لے جاتے تو نماز سے ابتداء کرتے جب نماز پڑھ چکتے تو لوگوں پرمتوجہ ہوتے لوگ اپنے مقام پر بیٹھے ہوتے اگر سرکار کو لشکر بھیجنے کی ضرورت ہوتی تو لوگوں سے ذکر فرمادیتے یا آپ کو اس کے سوا کوئی اور ضرورت ہوتی تو اس کا حکم فرمادیتے ۱∞؎اور فرماتے تھے خیرات کرو خیرات کرو خیرات کرو زیادہ خیرات کرنے والی عورتیں ہوتی تھیں ۲؎پھر آپ واپس ہوتے معاملہ یوں رہا حتی کہ مروان ابن حکم کا زمانہ آیا۳؎تو میں مروان کی کمر میں ہاتھ ڈالے نکلا حتی کہ ہم عیدگاہ پہنچے تو دیکھا کہ کثیر ابن صلت نے کچی اینٹ و گارے کا منبر بنایا ہے۴؎اورمروان مجھ سے اپنا ہاتھ کھینچنے لگا شاید مجھے منبر کی طرف کھینچتا تھا اور اسے میں نماز کی طرف کھینچتا تھا جب میں نے اس کی یہ حرکت دیکھی تو میں بولا کہ نماز سے ابتداءکرنا کہاں گیا وہ بولا نہیں اے ابوسعید جوتمہارے علم میں ہے وہ اب چھوڑ دی گئی ۵؎میں نے کہا ہرگز نہیں اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے جو چیز میرے علم میں ہے تم اس سے بہتر کوئی چیز نہیں لاسکتے ۶؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث مع شرح پہلےگزر چکی۔پہلےعرض کیاجاچکا کہ نمازعیدین کے لیے نہ اذان ہے نہ تکبیر اور اس کا خطبہ بعد نماز ہوگا،اورعیدگاہ میں دینی کام کے انتظامات کئے جاسکتے ہیں۔۲؎ظاہر یہ ہے کہ تاکید کے لیےتین بارخیرات کا حکم دیتے تھے اور یہ فرمان دوران خطبہ میں ہوتا تھایا ایک بار سامنے والوں سے فرماتے،دوسری بار داہنے والوں سے،تیسری بار بائیں والوں سے یا یہ مطلب ہے کہ اپنی دنیا کے لیے خیرات کرو،اپنے مُردوں کے لیے اور اپنی آخرت کے لیے خیرات کرو یا یہ کہ زکوۃ دو،فطرہ دو،صدقہ نفلی دو،عورتیں زیادہ خیرات اس لیے کرتی تھیں کہ وہ سن چکی تھیں کہ دوزخ میں ہم زیادہ دیکھی گئی ہیں۔۳؎یعنی خلفائے راشدین نے بھی خطبہ نمازعید کے بعد ہی رکھا۔خیال رہے کہ مروان ابن حکم ۲ھ میں یا خندق کے سال پیدا ہوا۔حضور انورصلی الله علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکا لہذا وہ صحابی نہیں،یہ امیر معاویہ کے زمانہ میں مدینہ کا حاکم تھا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی نے اپنے آخر خلافت میں اور امیر معاویہ نے خطبۂ عید نماز سے پہلے پڑھا مگر یہ غلط ہے جیساکہ اس حدیث سے صراحۃ ًمعلوم ہورہا ہے،نیز حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم اور حضرت صدیق و فاروق و عثمان و علی رضی الله عنھم کے ساتھ نماز عید پڑھی یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے نماز پڑھتے تھے لہذا اس بدعت کا موجد مروان ہی تھا۔۴؎یعنی اس سے قبل عیدگاہ میں منبر نہ تھا،مروان نے پہلے تو منبر رسول الله عیدگاہ میں لانا شروع کیا،اس پر اعتراضات ہوئے تو اس نے وہاں ہی منبربنوایا،لہذا یہ حدیث اس روایت کے خلاف نہیں کہ مروان مسجدنبوی سے منبرمنگواتا تھا۔خیال رہے کہ کثیر ابن صلت ابن سعدی کرب کندی حضورصلی الله علیہ وسلم کے زمانہ میں پیدا ہوئے،ان کا نام قلیل تھاحضور صلی الله علیہ وسلم نے بدل کر کثیر رکھا۔۵؎یعنی میں جانتا ہوں کہ سنت یہی ہے کہ خطبہ نماز سے پیچھے ہولیکن اب مصلحت اورحکمت یہ ہے کہ نمازسےپہلے ہوکیونکہ اب لوگ نماز کے بعدخطبہ کے لیے بیٹھتے نہیں اسی لیے اس نے"تُرِكَ کَمَا تَرَکْتُ"نہ کہا یعنی مجرم اس کا میں نہیں ہوں،یہ جلد بازلوگ ہیں۔۶؎یعنی ان معمولی عذروں کی وجہ سے یہ سنت نہیں چھوڑی جاسکتی عام لوگ بیٹھیں یا نہ تم خطبہ بعدمیں ہی رکھو۔اس سے دو مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضرت عثمان یا امیرمعاویہ نے خطبہ ہرگز پہلے نہ پڑھا ورنہ ابوسعیدخدری یہ گفتگو نہ کرتے۔دوسرے یہ کہ زمانہ کی مصلحتوں کی وجہ سے سنتیں نہیں چھوڑی جاسکتیں۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو آج کہہ رہے ہیں کہ خطبہ،اذان،تکبیر بلکہ نمازبھی اردو زبان میں پڑھوکیونکہ لوگ عربی نہیں سمجھتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1452