- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- حدیث نمبر 1452
باب : عیدین کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1452
نماز کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْأَضْحٰى ويَوْمَ الْفِطْرِ فَيَبْدَأُ بِالصَّلَاةِ فَإِذَا صَلّٰى صَلَاتَهٗ قَامَ فَأَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي مُصَلَّاهُمْ فَإِنْ كَانَتْ لَهٗ حَاجَةٌ بِبَعْثِ ذَكَرَهٗ لِلنَّاسِ أَوْ كَانَتْ لَهٗ حَاجَةٌ بِغَيْرِ ذٰلِكَ أَمَرَهُمْ بِهَا وَكَانَ يَقُولُ: “تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا” . وَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ ثُمَّ يَنْصَرِفْ فَلمْ يَزَلْ كَذَلِك حَتّٰى كَانَ مَرْوَانُ ابْن الْحَكَمِ فَخَرَجْتُ مُخَاصِرًا مَرْوَانَ حَتّٰى أَتَيْنَا الْمُصَلّٰى فَإِذَا كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ قَدْ بَنٰى مِنْبَرًا مِنْ طِينٍ وَلَبِنٍ فَإِذَا مَرْوَانُ يُنَازِعُنِي يَدَهٗ كَأَنَّهٗ يَجُرُّنِي نَحْوَ الْمِنْبَرِ وَأَنَا أَجُرُّهٗ نَحْوَ الصَّلَاةِ فَلَمَّا رَأَيْتَ ذٰلِكَ مِنْهُ قُلْتُ: أَيْنَ الِابْتِدَاءُ بِالصَّلَاةِ؟ فَقَالَ: لَا يَا أَبَا سَعِيدٍ قَدْ تُرِكَ مَا تَعْلَمُ قُلْتُ: كَلَّا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ لَا تَأْتُوْنَ بِخَيْرٍ مِمَّا أَعْلَمُ ثُلَاثَ مِرَارٍ ثُمَّ انْصَرَفَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
وعن أبي سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يخرج يوم الأضحى ويوم الفطر فيبدأ بالصلاة فإذا صلى صلاته قام فأقبل علی الناس وهم جلوس في مصلاهم فإن كانت له حاجة ببعث ذكره للناس أو كانت له حاجة بغير ذلك أمرهم بها وكان يقول: “تصدقوا تصدقوا تصدقوا” . وكان أكثر من يتصدق النساء ثم ينصرف فلم يزل كذلك حتى كان مروان ابن الحكم فخرجت مخاصرا مروان حتى أتينا المصلى فإذا كثير بن الصلت قد بنى منبرا من طين ولبن فإذا مروان ينازعني يده كأنه يجرني نحو المنبر وأنا أجره نحو الصلاة فلما رأيت ذلك منه قلت: أين الابتداء بالصلاة؟ فقال: لا يا أبا سعيد قد ترك ما تعلم قلت: كلا والذي نفسي بيده لا تأتون بخير مما أعلم ثلاث مرار ثم انصرف. رواه مسلم
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم عید کے دن تشریف لے جاتے تو نماز سے ابتداء کرتے جب نماز پڑھ چکتے تو لوگوں پرمتوجہ ہوتے لوگ اپنے مقام پر بیٹھے ہوتے اگر سرکار کو لشکر بھیجنے کی ضرورت ہوتی تو لوگوں سے ذکر فرمادیتے یا آپ کو اس کے سوا کوئی اور ضرورت ہوتی تو اس کا حکم فرمادیتے ۱∞؎اور فرماتے تھے خیرات کرو خیرات کرو خیرات کرو زیادہ خیرات کرنے والی عورتیں ہوتی تھیں ۲؎پھر آپ واپس ہوتے معاملہ یوں رہا حتی کہ مروان ابن حکم کا زمانہ آیا۳؎تو میں مروان کی کمر میں ہاتھ ڈالے نکلا حتی کہ ہم عیدگاہ پہنچے تو دیکھا کہ کثیر ابن صلت نے کچی اینٹ و گارے کا منبر بنایا ہے۴؎اورمروان مجھ سے اپنا ہاتھ کھینچنے لگا شاید مجھے منبر کی طرف کھینچتا تھا اور اسے میں نماز کی طرف کھینچتا تھا جب میں نے اس کی یہ حرکت دیکھی تو میں بولا کہ نماز سے ابتداءکرنا کہاں گیا وہ بولا نہیں اے ابوسعید جوتمہارے علم میں ہے وہ اب چھوڑ دی گئی ۵؎میں نے کہا ہرگز نہیں اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے جو چیز میرے علم میں ہے تم اس سے بہتر کوئی چیز نہیں لاسکتے ۶؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎یہ حدیث مع شرح پہلےگزر چکی۔پہلےعرض کیاجاچکا کہ نمازعیدین کے لیے نہ اذان ہے نہ تکبیر اور اس کا خطبہ بعد نماز ہوگا،اورعیدگاہ میں دینی کام کے انتظامات کئے جاسکتے ہیں۔۲؎ظاہر یہ ہے کہ تاکید کے لیےتین بارخیرات کا حکم دیتے تھے اور یہ فرمان دوران خطبہ میں ہوتا تھایا ایک بار سامنے والوں سے فرماتے،دوسری بار داہنے والوں سے،تیسری بار بائیں والوں سے یا یہ مطلب ہے کہ اپنی دنیا کے لیے خیرات کرو،اپنے مُردوں کے لیے اور اپنی آخرت کے لیے خیرات کرو یا یہ کہ زکوۃ دو،فطرہ دو،صدقہ نفلی دو،عورتیں زیادہ خیرات اس لیے کرتی تھیں کہ وہ سن چکی تھیں کہ دوزخ میں ہم زیادہ دیکھی گئی ہیں۔۳؎یعنی خلفائے راشدین نے بھی خطبہ نمازعید کے بعد ہی رکھا۔خیال رہے کہ مروان ابن حکم ۲ھ میں یا خندق کے سال پیدا ہوا۔حضور انورصلی الله علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکا لہذا وہ صحابی نہیں،یہ امیر معاویہ کے زمانہ میں مدینہ کا حاکم تھا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی نے اپنے آخر خلافت میں اور امیر معاویہ نے خطبۂ عید نماز سے پہلے پڑھا مگر یہ غلط ہے جیساکہ اس حدیث سے صراحۃ ًمعلوم ہورہا ہے،نیز حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم اور حضرت صدیق و فاروق و عثمان و علی رضی الله عنھم کے ساتھ نماز عید پڑھی یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے نماز پڑھتے تھے لہذا اس بدعت کا موجد مروان ہی تھا۔۴؎یعنی اس سے قبل عیدگاہ میں منبر نہ تھا،مروان نے پہلے تو منبر رسول الله عیدگاہ میں لانا شروع کیا،اس پر اعتراضات ہوئے تو اس نے وہاں ہی منبربنوایا،لہذا یہ حدیث اس روایت کے خلاف نہیں کہ مروان مسجدنبوی سے منبرمنگواتا تھا۔خیال رہے کہ کثیر ابن صلت ابن سعدی کرب کندی حضورصلی الله علیہ وسلم کے زمانہ میں پیدا ہوئے،ان کا نام قلیل تھاحضور صلی الله علیہ وسلم نے بدل کر کثیر رکھا۔۵؎یعنی میں جانتا ہوں کہ سنت یہی ہے کہ خطبہ نماز سے پیچھے ہولیکن اب مصلحت اورحکمت یہ ہے کہ نمازسےپہلے ہوکیونکہ اب لوگ نماز کے بعدخطبہ کے لیے بیٹھتے نہیں اسی لیے اس نے"تُرِكَ کَمَا تَرَکْتُ"نہ کہا یعنی مجرم اس کا میں نہیں ہوں،یہ جلد بازلوگ ہیں۔۶؎یعنی ان معمولی عذروں کی وجہ سے یہ سنت نہیں چھوڑی جاسکتی عام لوگ بیٹھیں یا نہ تم خطبہ بعدمیں ہی رکھو۔اس سے دو مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضرت عثمان یا امیرمعاویہ نے خطبہ ہرگز پہلے نہ پڑھا ورنہ ابوسعیدخدری یہ گفتگو نہ کرتے۔دوسرے یہ کہ زمانہ کی مصلحتوں کی وجہ سے سنتیں نہیں چھوڑی جاسکتیں۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو آج کہہ رہے ہیں کہ خطبہ،اذان،تکبیر بلکہ نمازبھی اردو زبان میں پڑھوکیونکہ لوگ عربی نہیں سمجھتے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1452