Main Icon

باب : عیدین کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1429

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَشَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ؟ قَالَ: نَعَمْ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلّٰى ثُمَّ خَطَبَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَرَأَيْتُهُنَّ يُهْوِينَ إِلٰى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ يَدْفَعْنَ إِلٰى بِلَالٍ ثُمَّ ارْتَفَعَ هُوَ وَبِلَالٌ إِلٰى بَيْتِهٖ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وسئل ابن عباس : أشهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم العيد؟ قال: نعم خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى ثم خطب ولم يذكر أذانا ولا إقامة ثم أتى النساء فوعظهن وذكرهن وأمرهن بالصدقة فرأيتهن يهوين إلى آذانهن وحلوقهن يدفعن إلى بلال ثم ارتفع هو وبلال إلى بيته(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

حضرت ابن عباس سےپوچھا گیا کہ کیا آپ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ عید میں حاضر ہوئے فرمایا ہاں رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لے گئے تو نماز پڑھی پھرخطبہ دیا اذان اورتکبیر کا آپ نے ذکر نہ فرمایا پھر عورتوں میں تشریف لے گئے تو انہیں وعظ و نصیحت کی اور صدقے کا حکم دیا ۱∞؎میں نےعورتوں کو دیکھا کہ اپنے کانوں اور گلے کی طرف ہاتھ بڑھاتیں اور بلال کی طرف زیور پھینک دیتیں پھر آپ اور بلال اپنے گھر واپس ہوتے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎چونکہ عورتوں کی صفیں مردوں سے پیچھے ہوتی تھیں اس لیےحضورصلی الله علیہ وسلم کے خطبہ کی آواز وہاں تک نہ پہنچتی تھی لہذا یہاں سے فارغ ہوکر ان میں جاکرعلیٰحدہ وعظ فرماتے تھے،انہیں خصوصیت سے صدقہ و خیرات کا حکم دیتے تھے جس کی وجہ اگلی احادیث میں آرہی ہے۔خیال رہے کہ یہاں صدقہ سے مراد فطرہ نہیں ہے کیونکہ وہ تونماز عید سے پہلےاداکیاجاتاہے،نیز ان بیبیوں نے یہ حکم سن کر اپنے زیور پیش کئے ہیں،اگر فطرہ یا زکوۃ ہوتی تو حساب سے دی جاتی۔غالب یہ ہے کہ یہ صدقہ اسلامی فوجوں کے لیے تھا۔۲؎یعنی حضورصلی الله علیہ وسلم صدقہ کا حکم دیتے اورحضرت بلال وصول کرتے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت بغیرخاوند کی اجازت خیرات کرسکتی ہے اپنے مال سے تو بہرحال اور خاوند کے مال سے جب جب کہ اسے عرفی اجازت ہو،یہ بھی معلوم ہوا کہ مسجدوعیدگاہ میں چندہ کرناجائزہے اور اپنے لیے سوال کرنا حرام،یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم سے پردہ کرنا عورتوں پر فرض نہ تھا کیونکہ آپ ان کے لیےمثل والد کے تھے،حضرت بلال غالبًا اپنا منہ ڈھکے ہوتے ہوں گے۔خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کا یہ وعظ خطبہ نہ تھا،وہ تو ہوچکا تھا بلکہ نصیحت کے طور پرتھا،ان بزرگوں کی ڈبل عید ہوتی ہوگی ایک عید،دوسرے جناب مصطفٰے کی دید،صلی الله علیہ وسلم۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1429