Main Icon

باب : میت کے دفن کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1721

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ قَالَ: رَآنِي النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- مُتَّكِئًا عَلٰى قَبْرٍ فَقَالَ: لَا تُؤْذِ صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ، أَوْ لَا تُؤْذِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

وعن عمرو بن حزم قال: رآني النبي -صلى الله عليه وسلم- متكئا على قبر فقال: لا تؤذ صاحب هذا القبر، أو لا تؤذه. رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر و ابن حزم سے فرماتے ہیں کہ مجھ کو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ایک قبر پر تکیہ لگائے دیکھا تو فرمایا اس قبر والے کو نہ ستاؤ یا اسے مت ستاؤ ۱∞؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا آپ قبر سےتکیہ لگائے بیٹھے تھے جس سے سرکار نے منع فرمایا۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مسلمان کی قبربھی لائق تعظیم ہے،جب اس سےتکیہ لگانا جائزنہیں تو وہاں اور بدتمیزی کیسے جائز ہوگی،بلکہ بزرگوں کی قبر پر ہاتھ باندھ کر سرجھکا کر کھڑے ہونا چاہیئے،حضورصلی الله علیہ وسلم کے روضہ پرنماز کی طرح ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو۔(کتب فقہ)دوسرے یہ کہ میت کو باہر کی خبر ہوتی ہے،ان کی بے ادبیوں سے ناراض اور احترام سے خوش ہوتاہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1721